12 مارچ 2026 - 17:12
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلا پیغام 

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ نے ملت ایران اور خطےکے ممالک کے نام اپنا پہلا پیغام جاری کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ نے ملت ایران اور خطےکے ممالک کے نام اپنا پہلا پیغام جاری کیا۔

پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللهِ الرّحْمَنِ الرَّحِيمِ

"مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا"

اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا داعِىَ اللَّهِ وَرَبَّانِىَّ آياتِهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا بابَ اللَّهِ وَدَيَّانَ دينِهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا خَليفَةَ اللَّهِ وَناصِرَ حَقِّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حُجَّةَ اللَّهِ وَدَليلَ اِرادَتِهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَاْموُلُ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ بِجَوامِعِ السَّلامِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلايَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ

اپنے کلام کے آغاز میں اپنے سید و سرور عَجَّلَ اللّهُ تَعَالَی فَرَجَهُ کی خدمت، انقلاب کے عظیم الشان رہبر خامنہ ایِ عزیز و حکیم کی جان سوز شہادت پر، تعزیت عرض کرتا ہوں اور آنحضرتؑ سے عظیم ملت ایران کے ہر فرد، اور دنیا کے تمام مسلمانوں، اور اسلام و انقلاب کے تمام خدمت گزاروں، جانبازوں اور نہضت اسلامی کے شہداء کے پسماندگان ـ بالخصوص حالیہ جنگ کے شہیدوں اور زخمیوں، اور اپنے لئے دعا کا التماس کرتا ہوں۔ 

میرے کلام کا دوسرا حصہ ایران کی عظیم ملت کے لئے ہے۔ ابتداء میں مجھے مجلس خبرگان کی رائے کے بارے میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا یہ خادم سید مجتبیٰ خامنہ ای آپ کی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹیلی وژن کے توسط سے خبرگان کی آراء کے نتائج سے آگاہ ہؤا۔ بندہ کے لئے ایسا مسند سنبھالنا، جس پر دو عظیم الشان پیشواؤں خمینی کبیر اور خامنہ ای شہید رونق افروز رہے ہیں، دشوار ہے، کیونکہ اس مسند کے پس منظر میں ایسی قائد کا جلوس و قعود ہے جو اللہ کی راہ میں 60 سالہ جہاد فی سبیل اللہ اور مختلف النوع آسائشوں اور لذائذ سے چشم پوشی کا اعزاز حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور نہ صرف عصر حاضر میں بلکہ حکمرانوں کی پوری تاریخ میں، ایک ممتاز شخصیت اور تابناک گوہر بن چکے ہیں، جن کی حیات بھی اور وصال کی نوعیت بھی حق پر توکل سے جنم لینے والے شکوہ و عزت، کے ساتھ گھل مل گئی ہے۔

مجھے رہبر معظم کی شہادت کے بعد آپ کے جسم مبارک کا دیدار کرنے کی توفیق حاصل ہوئی؛ جو کچھ میں نے دیکھا وہ عظمت و شکوہ کا پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ آپ نے اپنے صحتمند ہاتھ کی مٹھی بھینچی ہوئی تھی۔ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں باخبر حضرات کومدتوں تک بولنا چاہئے۔ اس موقع پر میں اسی مقدار پر اکتفا کرتا ہوں، اور تفصیل کو دوسرے مناسب مواقع تک مؤخر کرتا ہوں، یہ ہے کہ ایسی ہستی کے بعد قیادت کا مسند سنبھالنے کی دشواری کی وجہ، یہ فاصلہ طے کرنا صرف حضرت حق تعالیٰ سے استعانت اور آپ ـ ایرانی عوام ـ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یہاں میں اس نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں جس کا براہ راست تعلق میرے کلام سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ رہبر شہید اور آپ کے سَلَفِ کبیر کا ہنر تھا کہ وہ لوگوں کو تمام میدانوں میں لے کر آتے تھے اور انہیں مسلسل بصیرت و آگہی دے دیتے تھے، اور عملی میدان میں ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا سہارا لیتے تھے۔ انہوں نے اس طرح جمہور اور جمہوریت کو میدان عمل میں حقیقت کا جامہ پہنایا اور جان کی گہرائی سے اس پر یقین رکھتے تھے، اس کا واضح اثر ان چند دنوں میں ـ جب کہ رہبر اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف موجود نہیں تھا ـ دیکھا گیا۔ ذہانت اس حالیہ واقعے میں عظیم ملت ایران کی بصیرت اور اس کی پامردی اور شجاعت اور میدان میں اس کی موجودگی نے دوستوں کو تعریف و تمجید اور دشمنوں کو اظہار حیرت پر مجبور کر دیا۔ یہ آپ ہی تھے جس نے اس ملک کو اور قیادت اور قوت و عظمت کا تحفظ کیا۔ ابتدائے کلام میں، میں جس آیت کا حوالہ دیا، کہ "کوئی بھی آیت نہیں کہ جس کی مہلت ختم ہوجائے یا اسے بھلا دیا جائے، مگر یہ حضرت حق جلّ و علیٰ کی جانب سے اس کی مثل یا اس سے برتر آیت، اس کے بجائے عطا کی جاتی ہے۔

اس آیت شریفہ کا حوالہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بند رہبر شہید کی برابری کرتا ہوں، چہ جائے کہ آپ سے برتر سمجھا جاؤں؛ بلکہ یہ آیت مبارکہ کا تذکرہ آپ ملت عزیز کے بجا اور قوی کردار کی طرف توجہ دلاؤں۔

اگر وہ نعمت ہم سے چھین لی گئی تو اس کے بجائے ایک بار پھر اس نظام کو ملت ایران کی "عمار [یاسر]" جیسی عوامی موجودگی عطا ہوئی۔ جان لیجئے کہ اگر آپ کی طاقت میدان میں ظہور پذیر نہ ہوئی تو نہ رہبر اور نہ ہی کوئی ادارہ ـ جس کی ذمہ داری عوام کی خدمت ہے ـ کارآمد نہیں ہوگا۔  بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ قضیہ امکان پذیر ہوجائے، اولاً خدائے تبارک و تعالیٰ کی یاد، اور اس ذات مقدسہ پر توکل، معصومین صلوات اللہ علیکم اجمعین کے انوار مقدسہ سے توسل کو اس اکسیر اعظم اور کبریت احمر کے طور پر دیکھا جائے جو مختلف قسم کی فراخیوں اور دشمن پر حتمی اور قطعی فتح کی ضمانت ہے۔ یہ ایک عظیم تفضل اور فضیلت ہے جو آپ کے پاس ہے اور دشمن اس سے محروم ہیں۔

ثانیاً؛ قوم کے افراد اور طبقات ـ جو مشکل حالات میں زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں ـ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو کسی قسم کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ یہ ہدف ـ اختلافی نقاط کو نظر انداز کرکے ـ حاصل ہوگا۔

ثالثاً؛ میدان میں مؤثر موجودگی کو محفوظ اور جاری رہنا چاہئے؛ چاہے جنگ کے ان دنوں اور راتوں کی طرح جس کا آپ (عوام) نے مظاہرہ کیا، چاہے مختلف سماجی، سیاسی، تربیتی، ثقافتی حتیٰ سیکورٹی کے میدان میں۔ اہم بات یہ ہے کہ سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچائے بغیر، صحیح کردار کو اچھی طرح سمجھا جائے اور ممکنہ حد تک نافذ العمل کیا جائے۔ رہبر اور بعض دوسرے عہدیداروں کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ ان کرداروں کو معاشرے کے ہر فرد یا طبقوں گوش گذار کرا دیں۔ چنانچہ یوم القدس سنہ 1447ھ‍ میں شرکت کی اہمیت کی یاددہانی کراتا ہوں اور اس سلسلے میں "دشمن شکنی" کا عنصر سب کے پیش نظر ہونا چاہئے۔

رابعاً؛ ایک دوسری کی مدد سے دریغ نہ کریں۔ بحمد اللہ زیادہ تر ایرانیوں کی خصلت یہی رہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ ان خاص ایام میں ـ جبکہ فطری طور پر بعض شہریوں کی زندگی دوسروں سے زیادہ دشوار ہے ـ یہ امر زیادہ سے زیادہ جلوہ فگن ہو۔ اس موقع سے استفادہ کرکے خدمت رسانی سے متعلق اداروں سے تقاضا کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں قوم کے ان عزیز افراد اور عوامی ڈھانچوں کی مدد و اعانت سے دریغ نہ کریں۔

اگر ان امور کو ملحوظ رکھا جائے تو آپ ملت عزیز کا راستہ ـ عظمت اور شکوہ کی جانب ـ ہموار ہو جائے گا۔ اس کا قریب ترین مصداق، باذن اللہ موجودہ جنگ میں دشمن پر فتح و ظفر ہو سکتا ہے۔  

میرے کلام کا تیسرا حصہ ہمارے شجاع مجاہدین کا مخلصانہ تشکر ہے جنہوں نے ـ ایسے حال میں کہ ہماری قوم اور وطن عزیز مظلومیت کی حالت میں استکباری محاذ کے سرغنوں کی جارحیت کا نشانہ بنا ہے، ـ زبردست حملوں کے ذریعے دشمن کا راستہ بند کر رکھا ہے اور انہیں وطن عزیز پر تسلط پانے ـ یا تقسیم کرنے ـ کے وہم سے نکال  دیا ہے۔

عزیز مجاہد بھائیو! عوام کے تمام طبقوں کا مطالبہ مؤثر اور پشیمان کن دفاع کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔ نیز آبنائے ہرمز بند کرنے کے اوزار سے بدستور استفادہ کرنا چاہئے۔ ایسے نئے محاذ کھولنے کے سلسلے میں، جن میں دشمن کا تجربہ ناچیز ہے اور [وہ] بہت شدت سے کمزور اور زدپذیر ہے ـ تحقیقات ہو چکی ہیں اور جنگی صورت حال جاری رہنے کی صورت میں ان محاذوں کی فعال سازی کا عمل مصلحتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجام پائے گا۔

نیز محاذ مقاومت کے مجاہدین کا خالصانہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم محاذ مزاحمت کے ممالک کو اپنے بہترین دوست سمجھتے ہیں اور مقاومت اور محاذ مقاومت انقلاب اسلامی کی جدا نہ ہونے والی اقدار کا جزو ہے۔ بلا شبہ اس محاذ کے اجزاء کی معیت اور باہمی تعاون صہیونی فتنے سے خلاصی کی رفتار تیز تر کر دے گی؛ جس طرح کہ ہم نے دیکھا بہادر اور مؤمن یمن غزہ کے مظلوم عوام کے دفاع سے دستبردار نہيں ہؤا اور فداکار حزب اللہ ـ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ـ اسلامی جمہوریہ کی مدد کے لئے میدان میں اتری ہے اور عراق کی مقاومت بھی دلیری کے ساتھ اسی راستے پر گامزن ہے۔

چوتھے حصے میں میرا خطاب ان لوگوں سے ہے جنہیں ان چند دنوں میں کسی طرح، نقصان پہنچا ہے۔ چاہے وہ جو اپنے کسی پیارے یا پیاروں کی شہادت کی مصیبت سے دوچار ہوئے، چاہے وہ جو زخمی ہوئے ہیں، چاہے وہ جن کا خانہ و کاشانہ یا کام کاج کا مقام نقصان سے دوچار ہؤا ہے۔ اولاً میں عالی مرتبہ شہیدوںکے پسماندگان سے اپنی مخلصانہ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ اس مشترکہ تجربے کی بنیاد پر ہے جس سے مجھے اور ان بزرگواروں کو گذرنا پڑا ہے؛ میرے والد کے علاوہ، جن کے فقدان کا صدمہ ایک عمومی اور عوامی مسئلہ بن گیا ہے، میں اپنی پیاری اور با وفا زوجہ کو ـ جن سے مجھے امیدیں تھیں ـ اور اپنی ایک فداکار ہمشیرہ ـ جنہوں نے خود کو والدین کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا اور آخرکار اپنا اجر پا گئیں، ـ اور ان کی چھوٹی بچی کو اور دوسری ہمشیرہ کے شریک حیات کو، ـ جو ایک عالم اور شریف انسان تھے ـ قافلہ شہدا کے سپرد کر چکا ہوں۔ لیکن جو چیز مصائب پر صبر کو ممکن اور حتیٰ کہ مصائب کو آسان بناتی ہے، اللہ کا یہ حتمی اور قطعی وعدہ ہے کہ صابرین کے لئے اجر عظیم ہے۔ چنانچہ صبر کرنا چاہئے اور حضرت حق جلّ و علیٰ کے فضل اور دستگیری پر اعتماد کرنا چاہئے۔

ثانیاً؛ میں سب کو یہ اطمینان دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا انتقام لینے سے چشم پورشی نہیں کریں گے۔ جو انتقام ہمارے پیش نظر ہے وہ صرف انقلاب کے عظیم الشان رہبر کی شہادت بی محدود نہیں ہے بلکہ اس قوم کا ہر رکن، جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے، بجائے خود انتقام کے لئے ایک الگ کیس ہے۔ البتہ اس انتقام کا ایک محدود حصہ اب تک حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، لیکن جب تک یہ انتقام مکمل نہیں ہوگا، یہ کیس دوسرے کیسوں پر باقی رہے گا؛ اور بطور خاص اپنے اطفال اور بچوں کے خون کے بارے میں زیادہ حساس رہیں گے۔ چنانچہ دشمن نے میناب کے "شجرہ طیبہ" کے اسکول اور اسی طرح کے دوسرے واقعات کے سلسلے میں جس جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس پیروی میں خاص مقام رکھتا ہے۔

ثالثاً؛ ان حملوں کے زخمیوں کو مناسب طبی سہولیات بلا معاوضہ ملنی چاہئیں، اور انہیں بعض دوسری رعایتوں سے مستفید ہونا چاہئے۔

رابعاً؛ جہاں تک موجودہ صورت حال اجازت دے گی، عمارتوں، مکانات اور نجی املاک اور اموال کو پہنچنے والے نقصانات کا مالی معاوضہ دینے کے لئے ضروری، معینہ اور کافی شافی اقدامات عمل میں لانا چاہئیں۔ مؤخر الذکر دو معاملات محترم سرکاری عہدیداروں کے لئے نافذ العمل ذمہ داری کی حیثیت رکھتے ہیں، جن پر انہیں عملدرآمد کرنا چاہئے، اور ان کی رپورٹ بندہ کو دینی چاہئے۔

جو نکتہ میں یہیں گوش گذآر کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہم بہر صورت دشمن سے تاوان لیں گے، اور اگر نہ دینا چاہیں، تو ان کے اموال و املاک میں سے اٹھائیں گے اور اگر پھر بھی ممکن نہ ہؤا تو ان کے اموال و املاک کی، ان نقصانات کے برابر، مقدار کو تباہ کر دیں گے۔

میرے کلام کا پانچواں حصہ خطے کے ممالک کے سربراہوں اور مؤثر سطحوں کے لئے ہے۔ 15 ممالک ہمارے آبی اور زمینی پڑوسی ہیں، اور ہم ہمیشہ ان کے ساتھ قریبی اور تعمیری تعلقات کے خواہاں تھے اور ہیں۔ لیکن دشمن نے سابقہ برسوں سے تدریجی طور پر ان ممالک میں فوجی اور مالی اڈے قائم کر رکھے ہیں، تاکہ خطے پر اپنا تسلط یقینی بنا سکیں۔ حالیہ یلغار میں ان فوجی اڈوں کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا اور جس طرح کہ ان ممالک کو پیشگی خبردار کیا گیا تھا، ہم نے  فطری طور پر ـ ان ممالک پر حملہ کئے بغیر، ان ہی اڈوں پر حملہ کیا؛ اس کے بعد بھی ہم بہ امر مجبوری اپنا یہ کام جاری رکھیں گے؛ اگرچہ ہم اب بھی ان پڑوسیوں کے ساتھ دوستی کی ضرورت کے قائل ہیں۔ ان ممالک کو ہمارے پیارے وطن پر جارحیت کا ارتکاب کرنے والے اور ہمارے عوام کے قاتل ممالک کے ساتھ اپنی حدیں واضح کر دیں۔ میں مشورہ دیتا ہوں کہ جلد از جلد ان اڈوں کو بند کریں، کیونکہ اب یہ ممالک ـ ضرورتاً ـ سمجھ گئے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے امن و سلامتی کے دعوے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہ تھے۔

اگر [ان ممالک کی حکومتیں] یہ کام کریں اپنے عوام کی حمایت و اعتماد حاصل کرسکیں گے اوران کے ساتھ بہتر تعلق قائم کر سکیں گے کیونکہ ان کی قومیں علی العموم کفر کے محاذ اور اس کے تحقیرآمیز سلوک سے ناراض ہیں۔ یوں ان ممالک کی دولت اور طاقت میں اضافہ ہوگا۔ ایک بار پھر دہرا کر کہتا ہوں کہ اسلامی جمہوری نظام خطے میں استعمار اور تسلط پسندی کا سلسلہ شروع کئے بغیر، پڑوسیوں کے ساتھ اتحاد اور قریبی باہمی تعلقات قائم کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

کلام کے چھٹے حصے میں میرا خطاب ہمارے رہبر شہید سے ہے۔ اے رہبر عزیز! آپ نے وصال کرکے ایک بھاری داغ سب کے دلوں پر رکھا۔ آپ ہمشہ اس انجام و عاقبت کے مشتاق تھے، اور بالآخر حضرت حق نے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے، دس رمضان کی صبح کو یہ عاقبت آپ کو عطا فرمائی۔ آپ نے بہت ساری مظلومیتوں کو اپنی عظمت کے ساتھ، اور حلم و بردباری کی رو سے، برداشت کر دیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔ بہت سوں نے آپ کی قدر شناسی نہیں کی اور شاید عرصہ گذرے تاکہ مختلف قسم کے پردے اور رکاوٹیں ہٹ جائیں اور ان مظلومیتوں کے کچھ گوشے عیاں ہو جائیں۔

ہمیں امید ہے کہ اس مقام قرب کے صدقے، جس پر آپ انوار طیبہ اور صدیقین، شہداء اور اولیاء کے پاس آپ کو فراہم فرمایا گیا ہے، اس قوم اور محاذ مقاومت کی تمام قوموں کی پیشرفت کا اہتمام کرتے رہیں، اور اس حوالے سے وساطت کریں، جیسا کہ آپ دنیاوی حیات میں بھی ایسے ہی تھے۔ ہم آپ کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لئے ـ جو کہ محاذ حق کا حقیقی پرچم ہے ـ اور آپ جناب کے مقدس مقصد کے حصول کے لئے، پورے وجود کے ساتھ، کوشاں رہیں گے۔

ساتویں حصے میں ان تمام بزرگواروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی، جیسے مراجع تقلید اور مختلف علمی و ثقافتی، سیاسی اور سماجی شخصیات اور قوم کے افراد ـ جو ایک بار پھر نظام اسلامی کے ساتھ بیعت کی غرض سے عظیم اجتماعات میں حاضر ہوئے ہیں، نیز انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں اور عارضی شورائے انقلاب کے اراکین کا ان کے حسن انتظام اور مؤثر اقدامات کی بنا پر، شکریہ ادا کرتا ہوں۔

مجھے امید ہے ان مبارک گھڑیوں اور ایام میں، اللہ کے الطاف خاصہ پوری ملت ایران ہی پر نہیں، بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور مستضعفین پر نازل ہوں۔

اور آخر میں اپنے سرور عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ سے عرض کرتا ہوں کہ قدر کے ایام و لیالی اور ماہ مبارک رمضان کے باقیماندہ ایام میں، ہماری قوم کے حق میں، دشمن پر حتمی فتح نیز عزت، وسعت اور عافیت اور ان کے مرحومین کے لئے اخروی مقامات و عافیت کی دعا فرمائیں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ و تحیاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

مورخہ 21 / اسفند / 1404 ہجری شمسی

بمطابق 22 رمضان المبارک 1447 ہجری قمری

بمطابق 12 مارچ 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha