اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی نمازِ جمعہ آج عید گاہ سکردو میں منعقد ہوئی؛ جس میں ہزاروں مؤمنین نے شرکت کی اور شہید قائد امت امام المقاومہ سید علی حسینی خامنہ ای اور سکردو کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آقا سید باقر الحسینی نے کہا کہ جو کچھ ہوا ہمیں افسوس ہے، لیکن اس آڑ میں بلتستان میں حالت خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر ایریا ہے، یہاں پہ بعد میں کچھ ہونے کی صورت میں ہم زمہ دار نہیں ہے۔جنہوں نے نہتے بچوں کو قتل کیا ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیں۔
امام جمعہ سکردو نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل نہیں ہوا تو آگے کا لائحہ عمل طے کرنے پر ہم مجبور ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہماری نرمی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ کچھ بچوں سے غلطی سرزد ہوئی ہے تو اس آڑ میں بلتستان میں کچھ بھی ہونے کی صورت میں حالت کا زمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔
آقا سید باقر الحسینی نے کہا کہ تمام نقصانات کا ازالہ ہم کریں گے لیکن وعدہ کریں ہمارے نوجوانوں کو ہمیں واپس کریں۔ یہاں کے تخریبات میں FC ملوث ہے ہمارا مطالبہ ہے FC کو واپس لے لیں، ہمیں نہیں چاہئے۔
نائب امام جمعہ سکردو نے کہا کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں پورے جی بی میں نہ تھمنے والا احتجاج شروع ہوگا اس وقت ہم زمہ دار نہیں ہیں۔
صدر انجمنِ امامیہ بلتستان نے کہا کہ پہلے ہمیں پاکستانی تسلیم کریں! شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تم نے دیا نہیں ہے ہم نے لیا ہے اگر ابھی واپس لے سکتے ہے تو واپس لے لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہی نہیں تو ہم پر تمہارے قانون کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟ آرمی عدالت سے ہمیں نہ ڈرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جگہ آئی جی پی خود کا اعلان کرنا تشویشناک ہے وہ کون ہوتا ہے؟ فوجی کورڈ کی عدالت کے بارے میں ہمیں نہ ڈرائیں ہمیں آئی جی پی کی باتوں سے شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید امام سید علی خامنہ ای کی شہادت سے ہم کمزور نہیں ہوں گے انشاءاللہ اس سے زیادہ ہم طاقتور ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے مزاکرات کیلئے آنے والے با اختیار آجائیں، مطالبات کی منظوری کے بعد مکرنے والا نہ آئے۔ ہمیں دھوکہ دیا پہلے وعدہ کرکے بعد میں اس سے زیادہ کرفیو لگایا۔
انہوں نے کہا کہ تمام زخمیوں کے علاج و معالجہ کیلئے گورنمنٹ اقدامات کرے۔ کسی سیاسی پارٹی سے ہمارا کوئی تعلق تو نہیں ہے لیکن ویڈیو کی شکل میں اس پارٹی پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔جنہوں نے اقرار کیا ہے ان کو پکڑیں اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔
آپ کا تبصرہ