لارنس ولکرسن
-
امریکی دور کا خاتمہ
ایران نے جنگ میں پہل اپنے پاس رکھ لی ہے/ خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی ختم ہوگئی، ویلکرسن - 3
امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق وزیر خارجہ جنرل کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف نے جاری ایران-امریکہ جنگ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ تیز رفتار میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ظہور نے بحری طاقت کی روایتی برتری کو چیلنج کر دیا ہے اور ایران کشیدگی بڑھانے کے عمل میں پہل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ / موجودہ صورتحال واشنگٹن کے لئے ایک "بہت مہنگا تعطل" ہے اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے خاتمہ ممکن ہے۔
-
امریکی دور کا خاتمہ
ایران نے جنگ میں پہل اپنے پاس رکھ لی ہے/ خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی ختم ہوگئی، ویلکرسن - 2
امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق وزیر خارجہ جنرل کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف کرنل لارنس ویلکرسن (Col. Lawrence Wilkerson) نے جاری ایران-امریکہ جنگ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ تیز رفتار میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ظہور نے بحری طاقت کی روایتی برتری کو چیلنج کر دیا ہے اور ایران کشیدگی بڑھانے کے عمل میں پہل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ / موجودہ صورتحال واشنگٹن کے لئے ایک "بہت مہنگا تعطل" ہے اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے خاتمہ ممکن ہے۔
-
امریکی دور کا خاتمہ
ایران نے جنگ میں پہل اپنے پاس رکھ لی ہے/ خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی ختم ہوگئی، ویلکرسن - 1
امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق وزیر خارجہ جنرل کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف، کرنل لارنس ویلکرسن (Col. Lawrence Wilkerson) نے جاری ایران-امریکہ جنگ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ تیز رفتار میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ظہور نے بحری طاقت کی روایتی برتری کو چیلنج کر دیا ہے اور ایران کشیدگی بڑھانے کے عمل میں پہل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ / موجودہ صورتحال واشنگٹن کے لئے ایک "بہت مہنگا تعطل" ہے اور جنوب مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے خاتمہ ممکن ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
صہیونی وزیر اعظم، نیتن یاہو مسلسل بھاگے جا رہا ہے، سابق امریکی اہلکار
امریکی دفتر خارجہ کے سابق سربراہ لارنس ولکرسن نے کہا ہے کہ اسرائیلی نوآبادیاں ایران زبردست میزائل ـ ڈرون حملوں کی زد میں ہیں لیکن سینسر بہت شدید ہے اور تصویریں منظر عام پر نہیں آ رہی ہیں۔