بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
1۔ جب سید علی نے نے اپنے آخری خطاب میں فرمایا: #مثلی_لا_یبایع_مثله(یزید)؛ معلوم تھا کہ اپنے مولا حسینؑ کی طرح اپنے گھر والوں کے ساتھ ظلم اور فریب کے سامنے حاضر ہوئے ہیں اور #هیهات_من_الذلة ایک ملت کے تسلیم نہ ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔
ملت ایران اپنی سالمیت، خود مختاری اور ترقی کے لئے ان ہی کے #عاشورائی_قیام کے مرہون منت ہے۔
آقا جان! کیا کیا آپ نے دشمن کے ساتھ؟؛
وَمَا رَأیتُ إِلّا جَمِیلاً
کیا خوبصورت انجام رقم کیا آپ نے اپنے لئے اے سید حسینی۔۔۔
اور اب جبکہ سید علی حسینی خامنہ ای عاشورائی قیام کر چکے حسینؑ کے راستے پر گامزن ہوکر شعوری طور پر جام شہادت نوش کر گئے ہیں تو ہمیں زینبیۜ جہاد کرنا پڑے گا، #زینبیۜ_جہاد
2۔ حتیٰ کہ جب غیرملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو تہران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دیں، #سید_علی_حسینی_خامنہ ای خوب جانتے تھے کہ "امریکی_صہیونی_دہشت_گرد وں کا اصل نشانہ آپ ہی ہیں، تب بھی آپ نے فرمایا تھا: عوام #پناہ_گاہوں میں نہیں ہیں مجھے بھی عوام کی طرح ہونا چاہئے۔۔۔
چنانچہ، عام لوگوں کی طرح اپنے کام کے دفتر میں تھے اور یوں دنیا کے #شجاع_ترین_راہنما، یوں زندہ جاوید ہو گئے اور اپنی دیرینہ آرزو (یعنی #شہادت ) تک پہنچ گئے۔۔۔ #شہادت_کی_ردا آپ ہی کو جچتی تھی، اے سید علی حسینی خامنہ ای، مبارک ہو آپ کو
3۔ اور اب ہم، ـ امت مسلمہ، #عالمی_مستضعفین اور #محور_مقاومت، ـ صرف عزادار نہیں ہیں، ہم آپ کے #خونخواہ اور #منتقم ہیں مظلوموں کے گرائے گئے خون کے؛ اب ہماری سوگواری کا زمانہ نہیں ہے۔۔۔ سوگواری صرف انتقام کے بعد کریں گے
ہم دنیا کو #جزیرہ_ایپسٹین کے باسیوں کے اوپر ڈھا دیں گے۔۔۔
آج کروڑوں انسان ـ ایران کی #مساجد اور شہروں کی سڑکوں پر بھی اور #پاکستان اور #عراق سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ـ حاضر ہیں، جو انتقام کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور یہی مطالبہ ایرانی مجاہدین کے میزائلوں، طیاروں اور ڈرون طیاروں کا ایندھن اور دشمن کے کارندوں اور شیطان کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کو خاک میں ملانے کے لئے۔
مقاومت کے سپاہیوں کے نام:
به پا خیزید ای مردم که وقت سوگواری نیست
ندارد بهره ای از زندگی خونی که جاری نیست
به پا خیزید باید بغض را در زخم حل کردن
که جنگ است و نباشد فرصت زانو بغل کردن
ترجمہ (غیر منظوم):
اٹھو اے لوگو! وقتِ سوگواری نہیں ہے
خون جو مایۂ حیات نہیں، جاری نہیں ہے
اٹھو غم کو زخموں میں تحلیل کرنا ہے
یہ جنگ ہے، گھٹنے گلے لگانے کی فرصت نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ