بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس وقت جبکہ اسرائیل اپنی تاریخ کے بد نام ترین دور سے گزر رہا ہے یعنی غزہ میں نہتے اور معصوم فلسطینیوں پر اس کے غیر انسانی اور دل دہلا دینے والے بہیمانہ سلوک کے خلاف، پوری دنیا سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور نیتن یا ہو ، ہٹلر اور چنگیز خان سے بھی بڑھ کر ناپسندیدہ شخص بن چکا ہے؛ بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ٹرمپ کے بعد شاید دنیا کا دوسرا لیڈر ہے جو نیتن یا ہو کو اس کے شرمناک کارناموں پر مبارک دینے اسرائیل پہنچ گیا اور جس نےاسرائیلی پارلیمنٹ میں نہایت واشگاف الفاظ میں اسرائیلی جارحیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ 'ہم سات اکتوبر کے حماس حملے کا درد محسوس کرتے ہیں اور ہر اس خاندان کے لیے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جس کی دنیا حماس کے وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں تباہ ہو گئی۔'
بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ مودی نے غزہ میں شہید ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کا ذکر تک نہیں کیا جن کی اسرائیل نے دو سال کے دوران اس ظالمانہ طریقے سے نسل کشی کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور جس کے سامنے یہودیوں کے خلاف ہونے والے نام نہاد ہولوکاسٹ بھی ناچیز ہے۔
نریندر مودی کو نہتے فلسطینیوں کے دکھ درد کا احساس ہے اور نہ ہی مظلوم کشمیریوں کا، جن کے خلاف ظلم و تشدد میں مودی حکومت کے دوران کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
صرف یہی نہیں مودی دور میں ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں پر انتہا پسند ہندوؤں کے مظالم میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ مودی کے اس دورے کی سب سے زیادہ مخالفت بھارت کی اپوزیشن پارٹی کانگریس کر رہی ہے جس نے اس دورے کو بھارت کے تاریخی خارجہ پالیسی کے اصولوں کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔
درحقیقت انتہا پسند بھارتی قیادت جو آر ایس ایس کے ہندو توا نظریئے کے تحت گریٹر انڈیا یا اکھنڈ بھارت کے نظریات پر عمل کر رہی ہے، اسرائیل کی قدرتی حلیف ہے جو خود بھی گریٹر اسرائیل کے انتہا پسند نظریہ پر عمل پیرا ہے جس کے تحت وہ مڈل ایسٹ کے بیشتر ممالک شام، لبنان، اردن، مصر، عراق اور سعودی عرب کے اکثر علاقوں پر مشتمل عظیم تر اسرائیلی ریاست کے قیام کے خواب دیکھ رہا ہے۔ جس میں پہلے اسے امریکہ اور اکثر یورپی ممالک کی حمایت حاصل تھی اور اب بھارت اس خطے میں اس کا سب سے بڑا حمایتی بن کر سامنے آیا ہے جو صرف پاکستان ہی نہیں پوری مسلم دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اس خطے میں صرف دو مسلم ممالک ہی ایسے ہیں جن سے اسرائیل کو حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان میں سے ایک پاکستان ہے اور دوسرا ایران جس کے خلاف امریکہ اور اسرائیل ایک عرصے سے برسرِ پیکار ہیں خدانخواستہ اگر ایران میں انارکی اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو گئی تو اگلی باری پاکستان کی ہوگی جو اگرچہ ایٹمی طاقت ہے لیکن اپنی کمزور اندرونی سیاسی اور انتظامی بدنظمی، ہمسایہ ممالک کی دہشت گردی اور بدحال معیشت کی وجہ سے زیادہ دیر تک کسی بڑے بیرونی دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اتفاق سے اسرائیل اور بھارت دونوں مسلم ممالک سے برسرِ پیکار ہیں۔ اس لیے ان کے اتحاد کے لیے مسلم دشمنی ایک بنیادی نقطہ بن چکی ہے۔
امریکہ نے نام نہاد عرب اسپرنگ کے ذریعے مڈل ایسٹ کی اکثر مستحکم مسلم حکومتوں کو خانہ جنگیوں کے ذریعے پہلے ہی غیر مستحکم کر دیا ہے۔ جن میں لیبیا ، عراق اور شام شامل ہیں۔ امریکہ نے سب سے پہلے نام نہاد افغان جہاد کے ذریعے سوویت یونین کو ختم کیا اور پوری دنیا کو امریکہ کے یک طاقتی نظام کے ماتحت کر دیا۔
90 کی دہائی کی ابتدا میں شروع ہونے والے اس شیطانی کھیل نے مشرقی یورپ اور مڈل ایسٹ میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کا وہ سلسلہ شروع کر دیا جو آج اس حد تک خوفناک سطح پر پہنچ گیا ہے کہ بہت سے یورپی ممالک جو اسرائیل کے یکطرفہ حامی تھے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں لیکن بھارت مودی دور میں اسرائیل کے اس قدر نزدیک آ چکا ہے کہ 2014 میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد مودی کا اسرائیل کا یہ دوسرا دورہ ہے 10 مئی 2025 کی پاک بھارت جھڑپ میں اسرائیلی ڈرونز کا استعمال اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت اسرائیل اشتراک، دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی ظاہر کرتا ہے۔
اکثر مسلم ممالک جنکی تعلیمی، ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیت کی کوئی حیثیت نہیں وہ پاکستان کی نسبت ہندوستان سے زیادہ قریب ہیں لیکن اب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اپنے انٹرویو میں شام، عراق، لبنان اور سعودی عرب کے بڑے علاقے پر گریٹر اسرائیل کی حمایت کی ہے اور دوسری طرف مودی اور نیتن یاہو کی گہری دوستی کے سامنے آنے کے بعد مسلم ممالک کو سوچنا ہوگا کہ اگر انہیں اپنی آزادی برقرار رکھنی ہے تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ بھی انہیں اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور پاکستان کو بھی اپنی بقا کے لیے سیاسی استحکام پر زور دینا ہوگا جس کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے۔
آج کے شعر
بظاہر تو یہ بستی راحتِ صد جان لگتی ہے
نجانے شہر کی چپ کیوں مجھے طوفان لگتی ہے
یہ میرا وہم ہے یا وقت کی خاموش سرگوشی
کہ جو درپیش صورت ہے وہ اب مہمان لگتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹرخالد جاوید جان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ