اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک سرکاری لبنانی ذریعے نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات میں لبنانی وفد ایک ایسے جامع حل کے حصول کی کوشش کر رہا ہے جس میں ایک ساتھ اسرائیلی افواج کا انخلا اور لبنانی ریاستی اداروں کے اختیارات میں توسیع شامل ہو۔
لبنانی ذریعے نے زور دے کر کہا کہ موجودہ بحران کے حل کی اصل کنجی ایک جامع اور مکمل جنگ بندی ہے، تاہم اس مقصد کے حصول میں وقت لگ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور صہیونی رژیم کے درمیان مذاکرات کے چوتھے دور کا پہلا اجلاس منگل کے روز کسی نتیجے یا پیش رفت کے بغیر ختم ہو گیا۔
لبنانی ذرائع کے مطابق بیروت کا وفد مذاکرات میں اپنی توجہ جنگ کے خاتمے اور ملک گیر جنگ بندی کے قیام پر مرکوز رکھے گا تاکہ سرحدی کشیدگی اور مسلسل حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
لبنانی حکام ان مذاکرات میں ایسے وقت شریک ہیں جب گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران صہیونی رژیم پر جنگ بندی کی ہزاروں خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود بیروت کا مؤقف ہے کہ ملک میں پائیدار امن اور جنگ بندی کے قیام کے لیے براہِ راست مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب صہیونی میڈیا نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت امریکی تعاون سے لبنانی فوج کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا، تاکہ وہ پورے لبنان میں اپنی موجودگی اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنا سکے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی منصوبے کا اگلا مرحلہ لبنانی فوج کو جنوبی لبنان اور بیروت کے حساس علاقوں میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ اور مراکز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسرائیل اس امریکی اقدام کی بھرپور حمایت کر رہا ہے اور بیروت و تل ابیب کے درمیان جاری مذاکرات بھی اسی وسیع تر فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے مذاکرات کے آغاز سے قبل کہا تھا کہ "ہمارے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت کے ذریعے جنگ کا خاتمہ نہ تو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت یا پسپائی۔
آپ کا تبصرہ