اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار معاریو نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لبنان کے محاذ پر موجود اسرائیلی فوجی بڑھتی ہوئی مایوسی، غصے اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ڈرون حملوں اور جنگی تعطل نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق Andrew Fox کی جانب سے پلیٹ فارم "سب اسٹیک" پر شائع ہونے والے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ لبنان کے محاذ پر موجود اسرائیلی ریزرو فوجی شمالی علاقوں میں سکیورٹی بحال کرنے کے ہدف کے حصول میں ناکامی اور عملی میدان میں پیدا ہونے والی بند گلی پر شدید برہم ہیں۔
رپورٹ میں فوجیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کو ایک "دلدل" میں پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے کوئی واضح عسکری حکمتِ عملی موجود نہیں، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو مسلسل جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ فوجیوں نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا خون کھول رہا ہے"، جو ان کی شدید مایوسی اور بے بسی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تنقید کا رخ صرف فوجی قیادت تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی صدر Donald Trump اور واشنگٹن کی پالیسیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
معاریو کے مطابق محاذ پر موجود بعض اسرائیلی فوجیوں کا خیال ہے کہ موجودہ امریکی پالیسیاں ان کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں اور یہی پالیسیاں جنگی صورتحال کو مزید طویل اور فرسائشی بنا رہی ہیں۔ رپورٹ میں اس رجحان کو میدانِ جنگ میں موجود فوجیوں اور واشنگٹن میں فیصلے کرنے والے سیاسی حلقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور اختلافِ نظر کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرون جنگ کے بڑھتے ہوئے کردار، مسلسل سکیورٹی چیلنجز اور واضح جنگی حکمتِ عملی کے فقدان نے شمالی محاذ پر موجود صہیونی فوجیوں کے حوصلوں اور اعتماد پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے آثار اب اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ