26 جنوری 2026 - 15:44
ٹرمپ کے نام نہاد امن کونسل پر محمد البرادعی کی شدید تنقید، مقصد فلسطین کو مٹانا ہے

اس نام نہاد امن کونسل میں اقوام متحدہ کی بھی کوئی نمائندگی نہیں، حالانکہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے فلسطینی کاز کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کا اصل سرچشمہ اقوام متحدہ ہی رہا ہے۔ محمد البرادعی

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصر کے ممتاز سیاست دان محمد البرادعی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم نام نہاد ’’امن کونسل‘‘ کے طریقۂ کار اور اس میں شامل فریقین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کونسل کا اصل مقصد مسئلۂ فلسطین کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

محمد البرادعی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس کونسل پر بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غزہ کی پٹی کی انتظامیہ اور نام نہاد تعمیر نو کے منصوبے کی نگرانی کے نام پر قائم کیا جا رہا ہے، مگر اس میں فلسطین کے حامی اہم ممالک اور مؤثر فریقین کو جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا، جبکہ اس کی قیادت خود امریکہ کے پاس ہے اور صدر ٹرمپ ذاتی طور پر اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس کونسل میں دنیا کے بیشتر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک، خصوصاً آزاد فلسطینی ریاست کے حامی ممالک شریک نہیں ہیں، جن میں چین، فرانس، برازیل، جنوبی افریقہ، اسپین، آئرلینڈ، برطانیہ، یورپی یونین کے دیگر ممالک، ناروے، بھارت، میکسیکو، کولمبیا اور کینیڈا شامل ہیں۔

البرادعی نے مزید کہا کہ اس نام نہاد امن کونسل میں اقوام متحدہ کی بھی کوئی نمائندگی نہیں، حالانکہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے فلسطینی کاز کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کا اصل سرچشمہ اقوام متحدہ ہی رہا ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی سخت تنقید کی کہ اس کونسل میں فلسطینی عوام کا کوئی نمائندہ موجود نہیں، جبکہ قابض صہیونی حکومت اسرائیل کا نمائندہ اس میں شامل ہے۔

محمد البرادعی کے مطابق یہ ادارہ درحقیقت ایک ایسا انتظامی فورم ہے جو تقریباً مکمل طور پر امریکی نمائندوں پر مشتمل ہے، سوائے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم کے، اور اس کی قیادت ایسی ریاست کے پاس ہے جس نے آج تک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات اور عملی اقدامات کے ذریعے مسلسل اسرائیل کے حق میں مکمل جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔

آخر میں محمد البرادعی نے کہا کہ زمینی حقائق، یعنی روزانہ بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے تمام حقوق کی پامالی کو دیکھتے ہوئے، اگرچہ وہ امید رکھتے ہیں کہ شاید ان کا تجزیہ غلط ہو، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال مسئلۂ فلسطین کے ساتھ گزارے ہیں، مگر موجودہ حالات انہیں ایک منظم منصوبے کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں جو پہلے سے زیادہ شدت اور رفتار کے ساتھ فلسطین، اس کی سرزمین اور اس کے عوام کو مٹانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha