بین الاقوامی اہل بیت نیوز ایجنسی (ABNA) کے مطابق، سرکش ٹرمپ اپنے متکبر چہرے اور اپنی مغرور زبان کے ساتھ دنیا کے سامنے اس طرح پیش ہوئے کہ گویا وہ جدید دور کے فرعون ہیں، کرداروں کی تقسیم کرتے ہیں اور خون و آگ کے نقشے اپنی مرضی سے کھینچتے ہیں۔
اس سے پہلے کسی بھی متکبر نے اتنی بے حیائی کے ساتھ یہ اعلان کرنے کی جرأت نہیں کی تھی کہ ٹرمپ نے اتنی ڈھٹائی کے ساتھ کیا: فلسطینی مزاحمت کا خاتمہ، حماس کو غزہ سے اکھاڑ پھینکنا، اور خود کو مجرم ٹونی بلیئر کے ساتھ اس پٹی کا حکمران مقرر کرنا، گویا غزہ ایک ایسا فارم ہے جو ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ترکے میں ملا ہے، گیا یہ ایک ذلت قبول نہ کرنے والی زندہ امت کا حصہ ہی نہیں ہے۔
متکبرانہ لہجے کے ساتھ جو ہمیشہ ان کی تقریر کی خصوصیت ہے، ٹرمپ نے خود کو دھمکیوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے "نیا مشرق وسطیٰ" کا نام دیا، ایک ایسا مشرق وسطیٰ جس میں عرب اور اسلامی عوام کو ایک عارضی وجود [نام نہاد اسرائیل] کے باڑے میں محصور کیا جائے گا، حصار میں لے جایا جائے گا، اور بیڑیوں میں جکڑا جائے گا۔
وہ توہین کے ساتھ توہین کا اضافہ کرنا نہیں بھولے جب انھوں نے انکشاف کیا کہ عرب اور مسلم رہنماؤں یعنی حکمرانوں اور سیاست دانوں نے ان کے منصوبے میں برکت ڈالی ہے اور ان کے لئے اطاعت و فرماں برداری کے دروازے کھول دیے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کے بارے میں اس طرح بات کرنے لگے جیسے وہ اس کے ترکش کے سپاہی اور ان کے ہاتھ میں تاش کے پتے ہوں جنہیں وہ جب چاہیں حرکت دے سکتے ہیں۔
اس نے گندگی سے بھرے منہ کے ساتھ یہ کہا: "خطے کے رہنما حیرت انگیز ہیں۔" وہ کس چیز میں حیرت انگیز ہیں؟ مرکزی قضیے یعنی فلسطین کو فروخت کرنے میں حیرت انگیز؟ شہیدوں کے خون سے غداری میں حیرت انگیز؟ فلسطین کی باقیات کو ختم کرنے کے لئے امریکی-اسرائیلی منصوبے کی فنڈنگ میں مکمل طور پر ملوث ہونے کے لحاظ سے حیرت انگیز؟ جی ہاں، جلاد کے سامنے جھکنے میں حیرت انگیز، وقار اور خودمختاری اور عزت و آبرو کے چھن جانے پر خاموش رہنے میں حیرت انگیز۔
ٹرمپ نے صرف ملامت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے پاکستان کو مثال کے طور پر پیش کیا: پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف آف اسٹاف نے سودے پر متفق ہیں، تاکہ پریس کانفرنس میں موجود ممالک ایک ایسا بیان دیں جو پوری بے شرمی سے ٹرمپ کے منصوبے کی منظوری کے اعلان پر منتج ہو؛ یہ واضح پیغام ہے کہ مخالفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کھیل کی پوری ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔
کم عقل ٹرمپ نے اپنی شرائط کو اس طرح سے مرتب کرتا ہے کہ گویا وہ فوجی احکامات ہیں جن پر عمل درآمد کرنا واجب ہے: 72 گھنٹوں کے اندر تمام صہیونی قیدیوں کی رہائی، مرے ہوئے قیدیوں کے باقیات کی اسرائیلیوں کو فوری واپسی، حماس کا ترک اسلحہ اور اس کے فوجی انفراسٹرکچر کی تباہی، اور اسرائیلی افواج کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل؛ لیکن یہ سب صرف اسی کی نگرانی میں ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا: جہاں تک عربوں اور مسلمانوں کا تعلق ہے، تو حماس سے نمٹنے کے ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوگی؛ یعنی عرب اور مسلمان ہی وہ اپنے ہاتھوں سے مزاحمت کی عزت کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
اور اس نے پوری بے باکی اور ڈھٹائی کے ساتھ، اعلان کیا کہ جو بھی اس کے منصوبے کو مسترد کرے گا اس سے لوہے اور آگ سے نمٹا جائے گا؛ اور یہ کہ نیتن یاہو - جو کہ [اس کا] سب سے زیادہ قابل اعتماد شریک ہے، کو غزہ پر حملہ کرنے اور اس کے لوگوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے مکمل حمایت حاصل ہوگی، گویا فلسطینیوں کا خون وائٹ ہاؤس کے کہنے پر بہایا جانے والا سستا پانی ہے۔ اور گویا کہ کہ امت مسلمہ حرمت، جانوروں کا طویلہ ہے، جس کی نہ کوئی حرمت ہے نہ ہی وقار اور نہ ہی شرف و آبرو۔
اس کے فخر کی انتہا اس وقت ہوئی جب اس نے اپنے منصوبے کا انکشاف کیا جس کو وہ "امن کونسل" کہتے ہیں، ایک بین الاقوامی ادارہ جس کے وہ براہ راست چیئرمین ہوں گے، مجرم ٹونی بلیئر کے ساتھ۔؛ ٹرمپ اس طرح امریکہ کے صدر سے "غزہ کے سپریم حکمران" میں تبدیل ہو گئے، غزہ کی حکومت بنانے کے قابل نئے آقا کے طور پر بات کرتے ہوئے جو فیصلہ کریں گے کہ کون حکومت کرے گا اور کس کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا گا، کون زندہ رہے گا اور کس کو ختم کر دیا جائے گا۔
اور چونکہ یہ منظر ناگوار مذاق کے بغیر مکمل نہیں ہو گا، اسی لئے ٹرمپ نے سرد لہجے میں کہا کہ "اسرائیلی ماضی میں غزہ کو ترک کرنے میں سخاوت مند تھے،" گویا یہ ایک تحفہ تھا جسے انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق انتظام کے لئے فلسطینیوں کو دیا تھا! اس کے بعد اس نے فخریہ انداز سے کہا کہ "وہ اسرائیل" کے لئے اب تک کے بہترین امریکی صدر ہیں" اور یہ کہ "ابراہیم ایکارڈز" پر انھوں نے بات چیت کی وہ محض عربوں اور مسلمانوں کے کھنڈرات پر بنے ہوئے مشرق وسطیٰ کی طرف لے جانے والے راستے کا آغاز تھا۔ عربوں کو کس ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت کے مرتبے اور شرف کو چھوڑ دیا اور بندروں اور خنزیروں کی اولادوں سے لپٹ گئے۔
اپنے کھوکھلے وعدوں سے بھری طنز کے آخر میں، اس نے "سب کے لئے ضروری فنڈنگ" اور "سب کے لئے ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر" کی بات کی؛ جہاں ہر "جمیع" کا مطلب "اسرائیل کی سلامتی" کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، جب کہ فلسطینیوں کی واحد جگہ یا تو ملبے کے نیچے ہے یا پھر امریکی مجرم کی سربراہی میں نام نہاد "امن کونسل" کی سرپرستی کی حدود میں ہے۔ وہ امن کونسل جس کے وہ تاحیات سربراہ ہونگے اور یہ کونسل در حقیقت اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر کردار ادا کرے گی!!
اس گھمنڈ اور تکبر کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، اور ایسا تکبر جو اس سے پہلے کے سرکشوں اور مطلق العنان فرعوں کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔ لیکن سب سے بڑی رسوائی ٹرمپ کے الفاظ میں نہیں بلکہ ان کے پیچھے بھاگنے والی عرب اور اسلامی حکومتوں اور تنظیموں کی خاموشی میں ہے، جو ان کو اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ "وہ اس کے منصوبے کے ہلکے سایوں سے زیادہ نہیں ہیں،" جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اعتراض کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکے ہیں۔ "ان کو یہ ذلت و رسوائی مبارک ہو۔"
عرب اور اسلامی حکومتوں اور فورموں کی تذلیل
ٹرمپ کے منصوبے کا مطلب غزہ کی پٹی کو بین الاقوامی سرپرستی میں رکھنا ہے۔ دو سال قبل دشمن کی جانب سے پٹی پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، ٹرمپ دشمن وجود کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دوسرے طریقے سے اور بالواسطہ طور پر۔ ان کا منصوبہ بنیادی طور پر غزہ کو بین الاقوامی سرپرستی میں رکھنے کے تصور پر مشتمل ہے، ایک عارضی عبوری مرحلہ، یہآں تک کہ دشمن کی شرائط پوری ہو جائیں: جیسے حماس کا خاتمہ، اور مزاحمت کا خاتمہ اور مقاومت کی طرف سے ترک اسلحہ۔ اس کے بعد یہ منصوبہ غزہ کی پٹی کو سونے کے تھال میں رکھ کر اسرائیل کی خدمت میں پیش کرے گا!
اگلا حصہ ضرور پڑھیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
ابنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا، ضروری نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ