4 جنوری 2026 - 15:32
ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی قوم کا طوفانی رد عمل

گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے تکراری اور جارحانہ انداز میں ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور مداخلت کے دعوے کیے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی  ابنا کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے تکراری اور جارحانہ انداز میں ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور مداخلت کے دعوے کیے۔ ان کی ان توہمات نے ایرانی ہم وطنوں میں غصے کی آگ بھڑکا دی اور چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر ردِعمل کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔

اس مہم کا مرکز ہیش ٹیگ #ترامپ_غلط_کرد (ٹرمپ نے غلطی کر دی) تھا، جو ایکس نیٹ ورک پر ٹرینڈ بن گیا۔ ایران کے تمام شہروں سے ایک ہی آواز اٹھی جو ایک باوقار قوم کی طرف سے بے بنیاد دعوے کا بھرپور جواب تھی۔ صارفین نے قلم کے ہتھیار سے ان کھوکھلی دھمکیوں کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ انہیں استہزاء کا نشانہ بھی بنایا۔

ایک صارف نے اس بارے میں اپنی حب الوطنی کا اظہار یوں کیا ”ہم سب ایران میں ایک ساتھ ہیں اور ایران کے لیے ایک دوسرے پر جان نثار کریں گے۔“

ایک اور صارف نے لکھا: ”ایران کسی بھی حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ ہمارے داخلی امور میں مداخلت کا مطلب قومی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی ہے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ ایران کے لیے نسخے تجویز کرے، ایران اپنے عوام کے ارادے پر قائم ہے۔“

ایک اور محب وطن نے اس بارے میں یوں لکھا: ”ہم پتھر بنے تاکہ ٹوٹیں؛ ہم ٹوٹے تاکہ آزاد ہوں، یہ ہر جارح کے خلاف ہماری میراث ہے۔“

بعض صارفین نے ٹرمپ کے جوکر والے فوٹویا کارٹون شائع کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا۔

ایک اور صارف نے ٹرمپ کے مجرمانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: ”جب جرم بھلا دیا جائے، تو منافقت بہادر بن جاتی ہے۔ یاد دلانا ہمارا کم سے کم فریضہ ہے۔“

کچھ صارفین نے 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ”ہم تہران والوں کی طرف سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ ترامپ غلط کرد؟ کیونکہ آخری بار جب ٹرمپ نے ایرانی عوام کو نجات دی تھی تو وہ یہ تھی“ (تہران تجریش اسکوائر میں عام شہریوں پر بمباری کی طرف اشارہ)۔

ایک اور صارف نے لکھا: ”ٹرمپ کو تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ ایرانی چاہے کتنے ہی مسائل اور دباؤ میں کیوں نہ ہو، اپنے وطن کو نہیں بیچتا اور اجنبی کا نوکر نہیں بنتا۔“

بعض صارفین نے دھمکی کا جواب دھمکی سے دیا اور لکھا: ”ہمارے ملک کے مسائل ہمارا اپنا معاملہ ہیں اور ہمارا اتنا تاریخی پس منظر ہے کہ ہم انہیں حل کر سکیں۔ ہم ٹرمپ جیسے قمار باز، بچوں کے قاتلوں اور مجرموں کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر اس نے کوئی غلطی کی تو ہم ایرانی قوم 12 روزہ جنگ کی طرح انہیں گھٹنوں پر لے آئیں گے تاکہ وہ خطہ چھوڑ دیں۔“

بہت سے صارفین نے دفاعِ مقدس اور 12 روزہ جنگ کے شہداء کے نام اور یاد کے ساتھ لکھا: ”ہم اپنی ان 126 بے گناہ بیٹیوں اور خواتین کی طرف سے کہتے ہیں ٹرمپ نے غلطی کردی۔ یہ وہ خواتین اور بچیاں ہیں جو 12 روزہ جنگ کے امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔“

ایک اور صارف نے بھی لکھا: ”ایران کسی بھی صدر کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطلب قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ، تم نے غلطی کی جو ایران کے لیے نسخے تجویز کر رہے ہو۔“

اور ایک فرد نے تمام ایرانیوں کی طرف سے ”ترامپ غلط کرد“ کے جملے کو بار بار ٹویٹ کر کے ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ ٹویٹ کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔

ایک صارف نے ایران کے عوام کی وحدت اور اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں لکھا: ”یہ ایران ہے، ہمارا ایران! داخلی مسائل صرف ہم سے متعلق ہیں۔ ایران میں بیگانوں کی سلطنت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔“

سوشل میڈیا پر ردِعمل کی یہ وسیع لہر ایرانی قوم کی میڈیا کے حوالے سے پختگی اور اجتماعی روح کا آئینہ دار ہے، جو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ اس سرزمین کے لوگ اپنے تاریخی پس منظر اور اپنی آج کی صلاحیتوں پر پختہ اعتماد کے ساتھ کسی بھی مداخلت پسندانہ دعوے کو نہ صرف بے اثر سمجھتے ہیں، بلکہ اسے ہمبستگی، قومی عزم اور اجتماعی بیداری کی نمائش کے موقع میں بدل دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے نوکروں نے ابھی تک ایران کی مزاحمت کا پُر افتخار سبق نہیں سیکھا؛ ایران اور ایرانی، شعور اور وحدت کے ساتھ، ہمیشہ اپنی تقدیر کے اصل مصنف رہے ہیں اور ایک قوم کے آہنی ارادے کے سامنے زور زبردستی کہیں نہیں پہنچ پائے گی۔

ابزارک تصویرابزارک تصویر

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha