23 فروری 2026 - 06:43
امام خامنہ ای کی حکیمانہ قیادت نے جنگ کا رخ حقیقت کی طرف موڑ دیا ہے/ مزاحمت؛ کثیر قطبی نظام میں اصل کھلاڑی

ڈاکٹر حلیٰ صالح ہاشم الجابری نے کہا: السید الولی (رہبر انقلاب [حفظہ اللہ]) کو ایک محور اور اعلیٰ سیاسی، روحانی اور عقیدتی مرجعیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے نقطہ ہائے نظر کی یکجہتی اور اتحاد کا امکان فراہم کیا ہے اور مختلف محاذوں کے درمیان ہم آہنگی کو منظم کرنے والے قطب نما کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خطے کو وسیع اور غیر متوقعہ  جنگوں کی طرف پھسلنے سے روک دیتے ہیں۔ 

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے اور دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں نے مزاحمتی تحریک کو اسٹریٹجک تجزیوں کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے؛ یہ تحریک، مبصرین کے مطابق، روایتی حدود سے نکل کر اب نئی عالمی قواعد کے عین مطابق کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسی فضا میں، اس کی فکری اکائی اور قیادت کو نظر انداز کرکے اس تحریک کے عسکری، ابلاغیاتی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کا جائزہ لینا، بالکل نامکمل ہوگا۔

ڈاکٹر حلیٰ صالح ہاشم الجابری، تنظیم "أنا عراقیة" کی سربراہ اور عراق کی ثقافتی اور سماجی کارکن، ہیں جنہوں نے خبر رساں ادارے ابنا کے ساتھ گفتگو میں ان تبدیلیوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے، مزاحمت کے نئے مرحلے، بیانیوں کی جنگ، اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کے کردار اور ثقافتی اور سماجی جنگ میں خواتین کی پوزیشن پر روشنی ڈالی اور اس راستے کی ہر ممکن حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

مزاحمت اسٹریٹجک مرحلے میں اور قومی دفاع سے آگے

سوال: محترمہ ڈاکٹر! موجودہ صورت حال اور مزاحمتی تحریک پر آپ کا جائزہ کیا ہے؟

جواب: تحریک مزاحمت (محور مقاومت) آج ایک اسٹریٹجک مرحلے سے گذر رہی ہے؛ یوں کہ یہ اب محض ایک مقامی دفاعی تحریک نہیں رہی، بلکہ محاذوں کے اتحاد کے ساتھ مربوط نیٹ ورک میں تبدیل ہو گئی ہے جس کے پاس جدید عسکری اور تکنیکی صلاحیتیں ہیں۔ اقتصادی دباؤ، سائبر وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پیدا ہونے والے بے شمار چیلنجز کے باوجود، ـ جو تیزی سے جدید میدانوں میں داخل ہو رہے ہیں، تحریک مزآحمت دفاع کے مرحلے سے باہر نکل کر ڈیٹرنس اور توازن کے مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

یہ تحریک خود کو نئی عالمی ترتیب (New world order) کے فریم ورک میں ایک مرکزی کھلاڑی کے طور پر منوا چکی ہے، ایسی عالمی ترتیب جو کثیر قطبیت ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے، اور خطے میں یکطرفہ غلبے کو کمزور کر رہی ہے۔

نرم جنگ اور مزاحمت کا چہرہ بگاڑنے کی مغربی میڈیا کی کوشش

سوال: آپ کے تحریک مقاومت اوراسلامی جمہوریہ ایران کی غلط اور منفی تصویر پیش کرنے کی مغربی میڈیا کی کوششوں کو کیسے دیکھ رہی ہیں؟

جواب: کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مغربی میڈیا، اپنے اجرتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ، ہمیشہ اور پوری شدت سے نرم طاقت کے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے تحریک مقاومت کا چہرہ بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ نرم جنگ کے ذریعے، وہ مقاومت و مزاحمت کو اس کی عوامی بنیاد سے الگ کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اسے دہشت گردی اور خطرے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس کے خلاف پابندیاں لگائی جانی چاہئیں! اور مغربی و صہیونی شرائط و قوانین مزاحمتی تحریک پر مسلط کی جانی چاہئیں۔ وہ ان وقائع کو شیطانی بنا کر (اور Demonize کرکے) پیش کرنے، معمولی واقعات پر توجہ مرکوز کرنے اور ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، اور تنازع کے اصل اسباب یعنی 'قبضے' کو نظر انداز کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

دشمن میڈیا کی کوشش دراصل انفرادی ردعمل پر توجہ مرکوز کرنے اور عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر ذاتی معاملات کی طرف مبذول کرانے پر مرکوز ہے، اور عالمی رائے عامہ سے کھیلنے کے لئے جذباتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ اس لئے ہماری جنگ 'جتنی ہتھیاروں اور میدان' کی جنگ ہے، اتنی ہی 'آگاہی کی جنگ' بھی ہے۔ متبادل میڈیا، وہ میڈیا ہے جو حقائق کو عالمی زبانوں میں فروغ دیتا ہے اور مغربی میڈیا کا مقابلہ کرتا ہے، اور یہ بہت اہم ہے۔

حکیمانہ قیادت اور جنگ کے قطب نما کا رخ حقیقت کی جانب کرنا

سوال: آپ کے خیال میں امام سید علی خامنہ ای (رحمہ اللہ) کا عصر حاضر میں کیا کردار ہے اور آپ کی ہر ممکن حمایت کی ضرورت کی تکمیل کس انداز سے ہونی چاہئے؟

جواب: خدا کا شکر ہے کہ السید الولی (امام خامنہ ای حفظہ اللہ) کی حکیمانہ قیادت کے بدولت، جنگ کے قطب نما کا رخ حقیقت کی طرف ہو گیا ہے۔ السید الولی (حفظہ اللہ) کو ایک محور اور اعلیٰ سیاسی، روحانی اور عقیدتی قطب و مرجعیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے مختلف نقطہ ہائے نظر کو اتحاد کا امکان دیا ہے اور مختلف محاذوں کی باہمی ہم آہنگی کو منظم کرنے والے قطب نما کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خطے کو وسیع اور غیر متوقعہ جنگوں کی بھنور میں پھسلنے سے محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ عسکری پہلو میں کامیابی کے ذریعے حقیقی کامیابیوں کو برقرار رکھتے ہیں۔

بارہ روزہ جنگ جمہوریہ ایران کے لئے باعث فخر اور اسرائیل کی کمزوری کی انتہاؤں کو ثابت کرتی ہے۔ جیسا کہ رہبر معظم نے صہیونی ریاست کو "مکڑی کے جالے سے بھی کمزور" قرار دیا ہے، اسی طرح انھوں نے  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "حق اور محاذ مزاحمت فتح یاب ہے"، دنیا کے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یقین رکھو کہ تم تاریخ کے صحیح سمت پر کھڑے ہو۔"

رہبر معظم نے مغرب سے مکمل عدم اعتماد پر مبنی نقطہ نظر اختیار کیا ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارت کاری کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر جوہری معاملے میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں۔ یہ قاعدہ ان مذاکرات میں سرخ لکیریں (Red lines) کا تعین کرتا ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رہبر معظم جوہری ٹیکنالوجی کو ایرانی قوم کا مسلمہ حق قرار دیتے ہیں جو دشمن کے حکم و اجازت سے مشروط نہیں ہے۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران، دباؤ میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔

بالادستی کا مقابلہ اور یک قطبی نظام کے تسلط سے نکلنا

اس حکیمانہ قیادت کی حصولیابیوں میں سے ایک، مذاہب کے درمیان تقریب (مذاہب کو ایک دوسرے سے قریب لانے) اور تمام قوموں اور دنیا کے تمام خطوں سے مظلومیت کے خاتمے کی دعوت ہے۔ ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ امام القائد (امامِ کمانڈر) کے بیانیے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر آپ کے عربی اور فارسی زبان میں دیئے گئے خطبات میں۔

آپ عالمی امریکی استکبار اور بالادستی اور اس کی اولاد کا مقابلہ کرنے اور اس یک قطبی نظام کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ یہ ـ چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرکے، اور شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسی اقتصادی تنظیموں میں شامل ہوکر، بین الاقوامی تنہائی کو توڑنے اور اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، اور آپ کی یہ تدبیر عالمی نظام میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کو جنم دیتا ہے۔

السید الولی (حفظہ اللہ) امت اسلامی کے اتحاد اور یکجہتی پر بہت زور دیتے ہیں اور وہ ہماری حمایت اور محاذوں کے اتحاد میں ہماری موجودگی کی اہمیت پر اقتصادی یکجہتی کے ذریعے زور دیتے ہیں۔ اور محاصرہ توڑنے اور فکری استحکام کے لئے، وہ سیاسی عقیدے کو مضبوط بنانے کے ذریعے اس اہم مقصد کو حاصل کرتے ہیں جو قوموں کی آزادی، خودمختاری اور حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک مشترکہ دشمن یعنی امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دے کر اس مہم کو حاصل کر لیتے ہیں۔

عالم اسلام کی خواتین ثقافتی اور سماجی جنگ کے مرکز میں

سوال: موجودہ حالات میں عالم اسلام کی فعال خواتین کے کردار اور ان اقدامات کو آپ کس طرح بیان کریں گی جو وہ اٹھا سکتی ہیں؟

جواب: کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عورت آدھا معاشرہ اور باقی آدھے کی معلمہ ہے۔ لہٰذا، اس پر ایک اہم اور لازمی فرض عائد ہوتا ہے؛ جیسا کہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) نے بیان کیا ہے، دونوں (اشارہ خواتین اور قرآن کی طرف) انسان کی تعمیر پر مامور ہیں۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) عورت کو بنی نوع انسان کی آرزوؤں کی تکمیل کی علامت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ "اس وصف کی بنیاد پر، ہمیں "جہادِ تبیین" اور "نرم جنگ" میں شامل ہونے کے قابل ہونا چاہئے۔"

آج عورت کی موجودگی محض ایک معاون کی نہیں ہے، بلکہ وہ ثقافتی اور سماجی جنگ کے مرکز میں کھڑی ہے، اور انسان کی تربیت اور نرم جنگوں کا مقابلہ کرنے کی بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ شناخت اور اقدار کو اجنبی ثقافت کے اثرات سے بچانا اس کا فرض ہے۔

اس کے علاوہ، دنیا کی خواتین کے ساتھ پل بنانے، اسلام کی تعلیمات اور اسلامی انقلاب کی رہبری معظمہ کے عدل و مساوات کے فروغ کے فکری اصولوں کی وضاحت کرنے میں سفارتی نقطہ نظر بھی مدنظر ہے۔ یہ مہم ـ ڈیجیٹل سرگرمیاں، مختلف زبانوں میں آگاہی مہم جیسے تمام ممکنہ اقدامات کے ذریعے ـ سر کی جاتی ہے تاکہ مسخ شدہ تصویر کی اصلاح کی جا سکے، اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ادراکی اور خصوصی صلاحیتوں کے حصول کی اہلیت کو فروغ دیا جا سکے تاکہ بیرونی انحصار کم ہو۔ علاوہ ازیں، دنیا بھر کی خواتین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور پل بنانے، اسلام کی تعلیمات اور اسلامی انقلاب کے رہبر معظم  کی فکری بنیادوں کی تشریح میں سفارتی انداز اپنانا اور انصاف اور مساوات کے سلسلے میں معظم لہ کے مطمع نظر کو فروغ دیا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha