بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ کے مطابق، خلیج فارس میں مواصلاتی کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز کو لاحق خطرات کے اثرات محض انٹرنیٹ کی بندش تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس طرح کے خطرات خطے کی ڈیجیٹل معیشت کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری کے منظرنامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ صورتحال عرب ریاستوں کی اس ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے جس کے تحت انہیں ایک مستحکم اور محفوظ خطے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
امریکہ کی پیدا کردہ کشیدگی، خطے میں مصنوعی ذہانت (AI) کی سرمایہ کاری پر سایہ فگن
خلیج فارس میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ـ جسے "تیل کے بعد کے دور" میں معاشی ترقی کا انجن سمجھا جاتا تھا ـ اب امریکہ کی جارحیت اور جنگی جنون کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ چونکہ ڈیٹا کی ترسیل کے راستے تنگ گذرگاہوں (chokepoints) میں مرکوز ہیں، اور ڈیٹا سینٹرز کا انحصار بجلی کی بلاتعطل فراہمی، کولنگ سسٹمز اور مستحکم رابطے (connectivity) پر ہے، اسی لئے محدود حملے بھی ایسے نتائج کا باعث بن سکتے ہیں جو حملے کی جگہ سے کہیں دور تک محسوس کیے جائیں گے۔
اس خطرے کی سنگینی اس وقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جب ہم ان اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کرتے ہیں جو خلیج فارس کی ریاستوں نے خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے کر رہے ہیں:
- متحدہ عرب امارات (UAE) بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے؛
- سعودی عرب ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ماڈلز تیار کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے؛ اور
- قطر نے بھی بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
تاہم، امریکی کمپنیوں اور ٹیکنالوجیز کے ساتھ ان منصوبوں کا گہرا انضمام، اس بنیادی ڈھانچے کو ـ جس کا مقصد خطے میں مسابقتی برتری حاصل کرنا تھی ـ ممکنہ کمزوریوں، زدپذیریوں اور خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ