بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سلامتی کا جو نظام واشنگٹن نے کئی دہائیوں تک جنوب مغربی ایشیا کے خطے پر مسلط کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا، اب ایران کی نئی تسدیدی طاقت کے سامنے ایک تزویراتی تعطل سے دوچار ہے۔ امریکی سمندری ہتھیاروں کو نشانہ بنانے میں ایران کی فوجی کامیابی، روایتی بحری تسلط سے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے تسلط کے دور میں ایک تکنیکی منتقلی کی مانند ہے، جس نے طاقت کا توازن امریکہ کے نقصان میں، بدل دیا ہے، جس نے خود اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔۔۔
دوسری قسط:
میزائل اور ڈرون بمقابلہ طیارہ بردار جہاز
کرنل ویلکرسن نے مزید کہا: "کچھ تجزیہ کار پہلے کہہ چکے ہیں کہ یوکرین نے ڈرون استعمال کرتے ہوئے روسی بحریہ کو عملاً گھر بٹھا دیا ہے اور بندرگاہوں پر واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے؛ لیکن ایسے دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے ان لوگوں نے زمینی اور سمندری طاقت کی نوعیت کی غلط سمجھا ہے؛ کیونکہ روسی دونوں میدانوں میں 'کسی حد تک!' مقامی برتری رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، روس جو کچھ یوکرین کے ساتھ کر رہا ہے وہ اس کی مکمل تباہی پر منتج ہوگا۔"
انھوں نے جاری رکھا: "لیکن امریکہ کے طیارہ بردار جہازوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہنا چاہئے کہ یہ جہاز اسی لمحے سے جب تیز رفتار میزائل اور جدید ڈرون آسمان پر آئے، فرسودہ اور ماضی سے تعلق رکھنے والے اوزار بن گئے۔ جیسے ہی پہلا جہاز ڈوبے گا، ان کی تقدس اور ہیبت کا تصور کافی حد تک ختم ہو جائے گا اور اس کے ساتھ امریکہ کے اربوں ڈالر کا سرمایہ بھی ڈوب جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ زمینی طاقت اور سمندری طاقت کے درمیان حقیقی جنگ دوبارہ جاری ہے اور اب تک زمینی طاقت میدان میں فاتح رہی ہے۔ یہ جان لینا مفید ہوگا کہ چین، برتر زمینی طاقت کے طور پر، زبردست سمندری صلاحیت بھی رکھتا ہے؛ جن میں گہرے پانیوں میں ماہی گیری کے لئے 6000 جہازوں کا بیڑا بھی شامل ہے جس کے بہت سے جہاز، مثلاً، کارکردگی کے لحاظ سے امریکی تباہ کن جہازوں سے کم نہیں ہیں۔"
واشنگٹن کا "ادراکی جال (Cognitive trap)"؛ ایران کی طاقت کو امریکی انٹیلی جنس نے کم کیوں سمجھا؟
اس ریٹائرڈ امریکی کرنل نے واشنگٹن کی غلط حساب کتاب کے بارے میں اور اس بارے میں ـ کہ کیا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایک "ادراکی جال" میں پھنس گئے ہیں جس میں وہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو حد سے زیادہ اور ایران کی فوجی طاقت اور مقامی ساختہ فوجی صلاحیت کو، منظم طریقے سے، حقیقت سے کم سمجھتے؟ ـ کہا: "جی ہاں؛ لیکن مزید چیزیں بھی ہیں۔ مثلاً، سنہ 1986ع میں شائع ہونے والی فلپ نائٹلی (Phillip Knightley) کی کتاب "دوسرا قدیم ترین پیشہ: بیسویں صدی میں جاسوس اور جاسوسی" (The Second Oldest Profession: Spies and Spying in the Twentieth Century) کو دیکھیں۔ اگرچہ یہ کتاب بیسویں صدی کے اوائل سے رونالڈ ریگن کے پہلے دور اور اس کے نتیجے میں سرد جنگ کے زیادہ تر عرصے تک امریکی سامراج کے لئے لکھی گئی تھی، لیکن یہ آج کی صورتحال سے بھی بہت مطابقت رکھتی ہے۔
نائٹلی جو کچھ بیان کرتا ہے، وہ آج پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، [سامراجی منصوبوں کے تحت] سرد جنگ کے خاتمے کے بعد، انٹیلی جنس کی بنیادی فکرمندیاں نئے اور منافع بخش دشمن تلاش کرنے پر مرکوز تھے۔ یہ بنیادی انٹیلی جنس فکرمندیاں بنیادی طور پر سامراج کی سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی، لندن کی سیکرٹ انٹیلی جنس سروس (MI6) اور گورنمنٹ کمیونیکیشنز ہیڈکوارٹر، اور اسرائیل کی موساد ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ