اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ناروے کے معروف ادارے "اوسلو پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ" (PRIO) نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں طالبان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک عارضی سفارتی تنازع کے بجائے گہرے ساختی بحران کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کابل اور اسلام آباد کے درمیان موجودہ اختلافات دراصل دونوں فریقوں کے قومی سلامتی کے متضاد تصورات اور تاریخی تنازعات کی پیداوار ہیں، جنہوں نے ماضی کے اتحادیوں کو شدید بداعتمادی کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ "ڈیورنڈ لائن" پر تاریخی اختلاف آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ایک صدی گزرنے کے باوجود سرحد کی قانونی حیثیت اور خودمختاری کا مسئلہ حل طلب ہے، جس نے تعلقات کو مسلسل کشیدہ رکھا ہوا ہے۔
رپورٹ کا مرکزی نکتہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پاکستان کی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کو امید تھی کہ 2021 کے بعد طالبان حکومت پاکستان کے تعاون کے بدلے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے گی، لیکن طالبان نے اپنے نظریاتی اتحادیوں سے لاتعلقی اختیار کرنے سے انکار کردیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو "تزویراتی تعاون" سے نکال کر کھلی محاذ آرائی کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔
اوسلو انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نے سفارتی تعطل کے بعد دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کی، جس کے تحت بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی اور طورخم و اسپین بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں پر تجارتی و ٹرانزٹ پابندیاں عائد کی گئیں۔
تاہم رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ ان اقدامات سے طالبان کے رویے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس کے نتیجے میں افغانستان کی پہلے سے تباہ حال معیشت پر مزید انسانی اور معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے آخری حصے میں افغانستان میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق مختلف ممالک افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے کسی مستقل اور منظم مذاکراتی فریم ورک تک پہنچنا مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
اوسلو پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جب تک سرحدی تنازعات کے حل اور باہمی اعتماد سازی کے لیے اجتماعی سیاسی ارادہ پیدا نہیں ہوتا، یہ بحران جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کے ایک مستقل مرکز کے طور پر باقی رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں یہ تنازع "بے سمت بحران" کی شکل اختیار کرچکا ہے جو روایتی سفارت کاری کی پہنچ سے دور دکھائی دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ