بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ نیوز کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے "ہفتۂ دفاعِ مقدس" اور عالمی استکبار اور عراق کی [سابق] بعثی رجیم کی مسلط کردہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں ایران کی طاقتور اور شریف قوم کی مزاحمت اور استقامت کے آغاز کی 46ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تزویراتی بیان میں، دفاع مقدس کو "قومی ارادے اور اتحاد سے جنم والا روشن اور سنہری عنوان" اور "دفاعی اور تسدیدی قوت سازی کا تزویراتی مکتب" قرار دیا اور اس دور کے اسباق اور عبرتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایران کی مسلح افواج اور قوم کے بارے میں کہا: مسلح افواج مکمل تیاری اور تزویراتی ذہانت کے ساتھ، محکم اور تباہ کن جوابات کے لئے ہر وقت تیار ہیں اور انہیں دیر یا سویر اپنے پلید اور مجرمانہ وجود سے پاک خطے کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہوگا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے محکمۂ تعلقات عامہ کے مطابق، اس بیان میں کے ایک حصے میں کہا گیا ہے: آٹھ سالہ دفاع مقدس محض ایک عسکری واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سماجی سرمایہ، قومی یکجہتی اور تزویراتی خود اعتمادی پیدا کرنے والی تربیت گاہ تھا اور اس نے ایرانی قوم کو سکھایا کہ حقیقی طاقت ایمان کی گہرائی، اتحاد و یکجہتی اور قیادت اور قوم کے باہمی تعلق میں مضمر ہے، اور یہ درس آج ایک ذہین اور کثیر الجہتی دفاعی نظام میں تبدیل ہو گیا ہے جو جغرافیائی سرحدوں سے آگے بڑھ گیا ہے اور ادراکی، سائبر، اقتصادی اور تزویراتی میدانوں میں بھی تسدید (Deterrence) پیدا کر چکا ہے۔
اس بیان نے ملک کی طاقت اور تسدیدی طاقت کی پختگی اور ارتقا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے مقامی سائنس، تزویراتی جدت اور دفاعی خود انحصاری کی بنیاد پر طاقت اور مضبوطی کی ایسی سطح حاصل کر لی ہے کہ ہر خطرے کو اس کے منبع (Source) پر ہی ختم کر دیتی ہیں۔ اس طاقت کی عظیم اور تاریخی جھلکیاں امریکی-صہیونی جارحوں کی دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں "وعدہ صادق" کے عنوانس ے ہونے والی کاروائیوں کی تباہ کن اور دشمن شکن لہروں میں دنیا بھر کے منظر عام پر آئیں؛ ایسی کاروائیاں جنہوں نے امریکی-صہیونی دشمن اور اس کے حامیوں کے کاغذی رعب و دبدبے کو تباہ کر دیا اور خطے کی سلامتی کے انتظامات کو محور مقاومت (محاذ مزاحمت) اور ایرانی قوم کے حق میں دوبارہ ترتیب دیا۔
اس بیان میں، گذشتہ ایک سال کے دوران میدان جنگ میں رونما ہونے والے حیران کن واقعات کو خطے کے نئے نظام (نئی ترتیب = New Regional Order) کا آغاز قرار دیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے: آبنائے ہرمز کا تزویراتی انتظام استکباری، غیر انسانی اور استکباری و شیطانی طاقتوں کی ہیبت ٹوٹ جانے اور تسلط پسند اور دہشت گرد امریکی رجیم کی بے بسی کے فاش ہوجانے جیسے ناقابل تردید حقائق پر منتج ہؤا۔ اور آج ـ ان جنگوں کے بعد کی دنیا ـ ایک مختلف دنیا ہے؛ ایسی دنیا جس میں مستضعف قومیں اپنی صلاحیت پر یقین کر چکی ہیں اور استکباری طاقتیں زوال کی ڈھلوان جا کھڑی ہوئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ