4 اکتوبر 2026 - 23:20
این پی ٹی سے علیحدگی کا مسئلہ / روس اور چین کے ساتھ مسلسل مشاورت، بقائی کی زبانی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر کسی ملک کو این پی ٹی میں موجود رہنا ہے تو اسے اس کے فوائد اور اپنے حقوق سے مستفید ہونا چاہئے، نہ کہ اس کے برعکس، مسلسل دباؤ، دھمکی اور فوجی حملے کا نشانہ بنے۔ لہٰذا یہ سوال ایک سنجیدہ سوال ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بقائی نے کہا: یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر کسی ملک کو این پی ٹی میں موجود رہنا ہے تو اسے اس کے فوائد اور اپنے حقوق سے مستفید ہونا چاہئے، نہ کہ اس کے برعکس، مسلسل دباؤ، دھمکی اور فوجی حملے کا نشانہ بنے۔ لہٰذا یہ سوال ایک سنجیدہ سوال ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا: 

این پی ٹی سے علیحدگی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے

• این پی ٹی سے ممکنہ علیحدگی کے لئے مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کی تجویز اور وزآرت خارجہ کی طرف سے اس تجویز کی حمایت کے سلسلے میں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بحث ایران کے سیاسی اور علمی و فکری حلقوں میں بہت سنجیدہ ہے۔

• ایران سنہ 1970ع‍ سے اب تک، بطور رکن این پی ٹی، اور ایسے فریق کے طور پر جو اپنی تمامتر ذمہ داریوں کا پابند رہا ہے، بدترین طریقے سے فوجی حملے کا نشانہ بنا؛ اس کے سائنسدانوں کو قتل کیا گیا اور اس کے جوہری تنصیبات پر حملے کئے گئے۔

• یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر کسی ملک کو این پی ٹی میں موجود رہنا ہے تو اسے اس کے فوائد اور اپنے حقوق سے مستفید ہونا چاہئے، نہ کہ اس کے برعکس، مسلسل دباؤ، دھمکی اور فوجی حملے کا نشانہ بنے۔ لہٰذا یہ سوال ایک سنجیدہ سوال ہے۔

ہم روس اور چین کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں

• والدائی اجلاس میں  ایران، پابندیوں اور تہران اور ماسکو کے درمیان جوہری تعاون کے بارے میں روس کے صدر پیوٹن بیانات کے سلسلے میں، مجھے کہنا چاہئے کہ ہمارے روس کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں: دونوں دو طرفہ تعلقات کی سطح پر بھی اور بین الاقوامی تنظیموں کے فریم ورک میں بھی، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، برکس اور شنگھائی شامل ہیں۔

• بین الاقوامی مسائل میں سے بہت سے معاملات میں ایران اور روس کا نقطہ نظر مشترکہ اور یکساں ہے جن میں یک طرفہ پن اور عسکریت پسندی کی مخالفت شامل ہے؛ وہی مسئلہ جس کا بین الاقوامی برادری کو آج، سامنا ہے۔

• تیسری مسلط کردہ جنگ کے سلسلے میں بھی روس نے قابل قدر موقف اپنایا اور ایران پر فوجی حملے کی مذمت کی۔

• جوہری معاملے کے سلسلے میں بھی ہم اور روس، ہمیشہ ایک دوسرے سے مشاورت اور گفتگو کرتے ہیں اور جو بھی پیش رفت ہو ہم سلامتی کونسل کے دو اہم ممالک یعنی چین اور روس سے مشاورت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha