بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سنٹینل-3 کے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر، آج اس سائٹ کے اوپر تقریباً 50 کلومیٹر لمبا کالے دھوئیں کا ستون دیکھا جا رہا ہے۔ ناسا کے FIRMS سسٹم کے اعداد و شمار نے بھی اس اسٹیشن پر چار حرارتی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی ہیں۔

آگ کی تابکاری طاقت (radiative power) 88 میگا واٹ تک اور اس کا درجہ حرارت 367 کیلون ریکارڈ کیا گیا ہے؛ یہ عدد VIIRS کے نیم زیریں سُرخ (Mid-infrared) چینل کی بالائی حد کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آگ کا اصل درجہ حرارت ممکنہ طور پر ڈیٹا میں ظاہر کردہ سطح سے زیادہ ہے۔
یہ پائپ لائن پہلے بھی حملے کا نشانہ بن کر دو ہفتوں تک بند رہی ہے۔
سعودی عرب کی مشرق-مغرب پائپ لائن اس ملک کی تیل برآمد کا واحد راستہ ہے جو آبنائے ہرمز سے نہیں گذرتا۔ یہ پائپ لائن 11 ستمبر کو حملوں کی پہلی لہر کے بعد بند کر دی گئی تھی اور 22 ستمبر کو صرف جزوی طور پر اپنا کام دوبارہ شروع کر سکی تھی۔
فی الحال، حملے کے مرتکب شخص یا پہنچنے والے نقصان کی وسعت کے بارے میں مزید کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
نکتہ:
سعودی حکمرانوں نے مغربی ممالک کے تیل پہنچانے کے لئے، آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنےکی غرض سے، مشرق سے مغرب تک پائپ لائن بچھائی ہے اور جنگ کے دوران اسی پائپ لائن سے، بحیرہ احمر کے راستے، اپنے آقاؤں کی ضروریات پوری کرتا رہا ہے، لیکن لگتا ہے کہ امریکیوں کی یہ چال بھی ناکام بن رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ