بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || تاریخ کے پروفیسر اور ’نیوکلیئر اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ‘ کے ڈائریکٹر پیٹر کوزنک نے ’المیادین‘ کے پروگرام "The Great Confrontation: Iran and the World" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا:
تیسری اور آخری قسط:
• ایران کا موجودہ ردعمل سنہ1953ع کی بغاوت سے جڑا ہؤا ہے، جو سی آئی اے کی حمایت سے ایران کے منتخب وزیر اعظم، محمد مصدق، کی معزولی کا باعث بنی۔
• ایران میں امریکی سفیر نے واشنگٹن کو رپورٹ میں بتایا تھا کہ مصدق کو ایران کے 95 سے 98 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے اور انہیں ایک علاقائی ہیرو قرار دیا تھا جنہیں ٹائم میگزین نے "Man of the year" منتخب کیا تھا؛ لیکن
• سی آئی اے نے انہیں معزول کر دیا، کیونکہ انھوں نے اپنے ملک کا تیل ـ برطانوی مفادات کر برخلاف ـ قومیانے کی 'گستاخی!' کی تھی!
• یہ ایرانی عوام کے لئے ایک ضروری کام تھا۔ پھر امریکہ نے ایران پر شاہ، ساواک اور جبر مسلط کر دیا۔
• ایرانی عوام نے بعد میں اس نظام کے خلاف انقلاب بپا کیا۔ چنانچہ
• خطے کی موجودہ پیش رفت امریکی تسلط کے خلاف وسیع تر چیلنج کا حصہ قرار دیا۔
• یہ امریکہ ہے جو اس پورے خطے میں عوامی مفادات کی تباہی کا بنیادی عامل رہا ہے؛ اور
• اب ایرانی امریکہ کو خطے سے باہر نکال رہے ہیں۔
• عراق کی پیش رفت اور عراق سے امریکی فوج کی پسپائی "اس راستے میں ایک اہم قدم" ہے؛ اور خطے کی وسیع تر پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب اس خطے پر تسلط کی روایتی سطح مسلط نہیں کر سکتا۔
• جو کچھ وسیع تر پیمانے پر ہو رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ خطے کی بالادست قوت نہیں ہے، غالب طاقت نہیں ہے اور وہ تمام امور طے کرنے والا ملک نہیں ہو سکتا۔
• موجودہ علاقائی نظام کثیر قطبی ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے؛ چنانچہ دھونس دھمکی اور ڈرانے دھمکانے کی ناکام پالیسیاں دہرانے کے بجائے، تعلقات کے لئے ایک پرامن بنیاد کا قیام ہونا چاہئے۔
• ہم ایک کثیر قطبی دنیا میں رہتے ہیں اور ہمیں پرامن بقائے باہمی کے لئے ایک بنیاد تلاش کرنی چاہئے؛ ان گھسی پٹی روشوں کے بغیر۔
• امریکی دباؤ کے خلاف ایران کا اعلان کردہ موقف یہ ہے کہ ایرانیوں نے کہا ہے کہ اگر تم شیخی بھگاروگے اور ہمیں دھمکی دو گے تو ہم ان میں سے کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم ایک منصفانہ اور مساوی تعلق کے خواہاں ہیں۔
• خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ موجودہ تصادم کو حل نہیں کر سکتا اور تنازع کے خاتمے کے لئے بالآخر سفارت کاری کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ