بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien) نے ـ دی اٹلانٹک میں ایک مضمون میں ـ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
تیسری قسط:
امریکہ کے جدید گولہ بارود کے ذخائر قلت سے دوچار
ایران کے ساتھ جنگ نے پینٹاگون کے کچھ اہم ترین اور جدید ترین ہتھیاروں ـ بالخصوص فضائی دفاعی میزائلوں ـ کے ذخائر کم کر دیئے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے دو ماہ بعد، محتاطانہ مطالعات کی روشنی میں، اندازہ لگایا جاتا تھا کہ امریکہ تھاڈ میزائل-دفاعی نظام کے گولہ بارود، پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور ٹوماہاک کروز میزائلوں کی قلت کے کی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے اور تب سے ال قلوں میں مزید اضافہ ہؤا ہے۔
امریکہ برسوں سے نام نہاد قیمتی دفاعی نظامات تیار کرنے پر مرکوز رہا ہے، یعنی ایسے جدید ہتھیار جو محدود تعداد میں اور زیادہ لاگت سے تیار ہوتے ہیں۔
یہ رویہ جزوی طور پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا رد عمل تھا؛ ایسی جنگ جس میں امریکی فوجی بغاوت اور بدامنی سے نمٹنے پر مرکوز تھے اور ایسے دشمنوں سے لڑ رہے تھے جو امریکی رسد کی خطوط کے خلاف سنگین اور مسلسل حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
ایسے حالات میں پینٹاگون نے گولہ بارود کا وسیع مجموعہ تو بنایا، لیکن ان کے گہرے اور وسیع ذخائر نہیں بنائے۔
نکتے کی بات: [کیونکہ واشنگٹن یہ ہرگز نہیں سمجھتا تھا کہ دنیا میں کوئی ہے جو اس کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، ارادہ بھی رکھتا ہے اور اسے زچ بھی کر سکتا ہے، وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک مزاحمت کے بعد شکست کھائیں گے اور واشنگٹن فتح کا اعلان کرے گا]۔
اس مضمون کے مطابق، دفاعی میزائلوں کی موجودہ پیداواری رفتار سے امریکہ کو کئی سال درکار ہوں گے تاکہ اپنے ذخائر کو اس سطح پر لائے جو جنگ کے آغاز کے وقت تھی، تاہم وہ سطح بھی اب امریکہ کی عالمی حیثیت بحال کرنے کے لئے کافی نظر نہیں آتی کیونکہ دنیا درست نشانہ بنانے والے گائیڈڈ ڈرونز اور ان ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی طرف بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ امریکہ کی اس سطح پر واپسی کا امکان بہت کمزور نظر آتا ہے۔
امریکہ کی صنععی برتری کی فرسودگی
امریکہ کی پیداواری برتری کا تحلیل ہونا ایک پرانی کہانی ہے، لیکن یہ 'امریکی دور کے خاتمے' [اور امریکہ کی عالمی سلطنت کے زوال] کے ادراک کے لئے ایک کلیدی عنصر ہے۔
اس کے لئے تاریخی مثالیں بھی موجود ہیں۔ امریکہ کسی زمانے میں شہری (غیر فوجی) شعبے کی پیداواری صلاحیت استعمال کرکے دوسری طاقتوں سے آگے نکل سکتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکیوں نے گاڑیوں کی صنعت کو طیارے بنانے کی صنعت میں بدل دیا لیکن آج امریکہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنی شہری [بحری] جہاز سازی کی صنعت میں تقریباً صفر (0) ہے۔ اس کے برعکس چین دنیا کے تقریباً 50 فیصد بحری جہاز تیار کرتا ہے اور دنیا کے تقریباً 80 فیصد ڈرونز کی پیداوار پر اسی کے ہاتھ میں ہے۔
امریکہ نے اپنی فوج مختصر مدت کی شدید جنگ میں فتح کے لئے بنائی تھی اور نتیجے میں اس کے پاس ـ چین کے ساتھ طویل المدتی تصادم کے لئے ـ ضروری ساز و سامان، ذخائر اور تازہ دم فوجی دستے نہیں ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: میثم یعقوبی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ