اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تاریخی شہروں اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے جنرل ادارے کے الحدیدہ شاخ کے ایک وفد نے الخُوخہ اور مخا کے ان تاریخی مقامات کا میدانی جائزہ لیا جو سعودی دشمن اور اس کے مسلح گروہوں کے قبضے سے آزاد کرائے جا چکے ہیں۔
دورے کے دوران وفد نے متعدد تاریخی عمارتوں، قدیم مساجد، پرانی جامع مساجد اور مذہبی مقامات کا معائنہ کیا اور ان عمارتوں میں پڑنے والی دراڑوں، انہدام اور دیگر نقصانات کا جائزہ لیا۔ ان میں سے کئی عمارتیں سیکڑوں سال قبل تعمیر کی گئی تھیں اور تہامہ کے عوام کی ایمانی و ثقافتی شناخت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
ادارے کے سربراہ عبدالوهاب المہدی کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ٹیم نے مقامی شہریوں سے بھی ملاقات کی اور دونوں اضلاع کے تاریخی شہروں اور مقامات کو گزشتہ برسوں کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ جارح قوتوں اور ان کے مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ان علاقوں میں منظم انداز میں تباہی کی گئی۔
الحدیدہ میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ یہ دورہ ادارے کی قیادت کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی مقامات ایک قوم کی یادداشت اور ایسا تہذیبی ریکارڈ ہیں جو یمن سے گہری وابستگی اور صدیوں پر محیط تہامہ کے قدیم ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ الخُوخہ اور مخا قدیم یمنی بندرگاہوں کے نقشے پر نمایاں تاریخی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہاں تہامہ اور اسلامی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرنے والی سیکڑوں تاریخی عمارتیں اور آثار موجود ہیں۔ اس لیے ان مقامات کو نظرانداز ہونے اور معدوم ہونے سے بچانے کے لیے سرکاری اداروں اور معاشرے کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارہ تصاویر، نقشوں اور انجینئرنگ ڈرائنگز سے مزین ایک تفصیلی فنی رپورٹ تیار کرے گا، جس میں تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصانات کی سائنسی بنیادوں پر دستاویز بندی کی جائے گی۔ یہ رپورٹ ادارے کی قیادت اور متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی تاکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تاریخی عمارتوں کی مرمت اور تحفظ کے اصولوں کے مطابق بحالی اور مرمت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں مقامی انتظامیہ، متعلقہ سرکاری محکموں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والی تنظیموں کے ساتھ وسیع رابطہ کیا جائے گا تاکہ باقی رہ جانے والے تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے فوری لائحہ عمل وضع کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ان مقامات پر کسی بھی نئی تعمیر، تبدیلی یا مزید نقصان کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں بحالی کے لیے ترجیحی تاریخی مقامات کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وفد نے دورے کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ تاریخی شہروں اور آثارِ قدیمہ کا تحفظ قومی اور سماجی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ادارے نے کہا کہ سعودی جارحیت اور محاصرے کے باعث ملک کو درپیش غیر معمولی حالات کے باوجود وہ اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے گا تاکہ یمن کی قدیم تاریخ اور تہذیبی ورثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ