27 اگست 2026 - 02:51
پہلی قسط | دنیا کے ممالک حتیٰ کہ "خاموشی" کے ذریعے ایران کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟

یہ عجیب ہے، لیکن ایران کے دشمن بھی ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ناکامی اور ایران کی کامیابی پر خوش ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کی مزاحمت امریکی فوجی مداخلتوں اور واشنگٹن کی توسیع پسندی کے پھیلاؤ کے خلاف ایک عالمی ڈھال ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ویب سائٹ "اینٹی وار Antiwar" پر "ٹریپا پارسی" کا نیا مضمون حالیہ پیشرفتوں میں ایک کم دکھائی دینے والی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: "وہ ممالک جو ضروری نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہوں، خاموشی سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی مزاحمت پر خوش ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ ان ممالک کی اس فکرمندی میں تلاش کی جانی چاہئے کہ امریکہ فوجی طاقت کے سہارے حکومتوں کو ہتھیار ڈالنے یا سیاسی تبدیلی پر مجبور کرے، اور یہ نمونہ اور رویہ پوری دنیا میں پھیل جائے۔

پارسی زور دیتے ہیں کہ وہ مختلف ممالک کے ان عہدیداروں کی تعداد دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں جنہوں نے ایران کی ثابت قدمی اور استقامت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے؛ یہاں تک کہ وہ ممالک جو خود امریکہ کے قریبی کیمپ میں ہیں یا جن کے تہران سے اختلافات ہیں۔

ایران کی مزاحمت؛ ایک جنگ سے کہيں آگے

دنیا کے مختلف حصوں میں حالیہ تجربات نے دکھایا ہے کہ اگر فوجی مداخلت اور نظام کی تبدیلی امریکی خارجہ پالیسی کا ایک معمول کا ذریعہ بن جائے تو کوئی بھی ملک خود کو مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھ سکے گا۔

اسی لئے ایران کی مزاحمت نے بہت سے ممالک کے لئے اہمیت حاصل کر لی ہے۔ اگرتہران امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملے کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا تو اس تصور کو وسیع پیمانے پر تقویت ملتی کہ کہ واشنگٹن فوجی برتری کے سہارے اپنے سیاسی اہداف دوسرے ممالک پر بھی مسلط کر سکتا ہے۔ لیکن ایران کی مزاحمت نے اس تصور اور اس [شیطانی] حساب کتاب کو بدل دیا۔

جس جنگ کو مختصر اور فیصلہ کن ہونا تھا، وہ ایک مہنگی اور فرسودہ کرنے والی کشمکش میں بدل گئی اور یہ دکھا گئی کہ امریکی فوجی طاقت کا مطلب ضروری نہیں کہ فوری فتح اور سیاسی اہداف کے حصول کی ضمانت بھی دے سکتی ہو۔

پہلی قسط | دنیا کے ممالک حتیٰ کہ "خاموشی" کے ذریعے ایران کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟

کچھ ممالک ایران کی کامیابی پر خوش کیوں ہیں؟

یہ ضروری نہیں ہے کہ ـ بہت سے ممالک جو ایران کی مزاحمت کا خیرمقدم کرتے ہیں، ـ تہران کے اتحادی بھی ہوں؛ بلکہ وہ اس اصول کی حمایت کرتے ہیں کہ کسی بھی طاقت کو اتنا بالا دست نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کوئی سنگین قیمت ادا کئے بغیر، دوسرے ممالک کی تقدیر کا فیصلہ کر سکے یا اسے بدل سکے۔

اس نظریئے میں ایران ایک اہم مثال اور نمونۂ عمل ہے۔ تہران نے دکھایا کہ ضروری نہیں ہے کہ فوجی حملے کا مطلب  کسی ملک کا تیزی سے خاتمہ ہو یا امریکہ کے عزائم کی تکمیل کرے۔ یہی حقیقت امریکہ کے دیگر ممالک کے خلاف حساب کتاب کو بھی مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha