26 اگست 2026 - 16:38
شیخ زکزاکی: علم کو اللہ کی رضا اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے

نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی نے بچوں اور نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف نصابی علوم منتقل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ طلبہ کی سوچ، کردار اور دینی شعور کی بھی درست سمت میں تربیت ضروری ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی نے بچوں اور نوجوانوں کی فکری و دینی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف نصابی علوم منتقل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ طلبہ کی سوچ، کردار اور دینی شعور کی بھی درست سمت میں تربیت ضروری ہے۔

شیخ زکزاکی نے یہ بات ابوجا میں پرائمری اور پیشہ ورانہ اسلامی ثانوی سطح کے طلبہ کے ایک تربیتی اجتماع کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ پروگرام اسلامی تحریک کے طلبہ و طالبات کی تنظیم کی جانب سے تعلیمی تعطیلات کے دوران منعقد کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو درست اور تعمیری افکار سے مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ کم عمری ہی سے علم حاصل کرنے کے ساتھ اپنی فکری صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھائیں تاکہ مستقبل میں معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

شیخ زکزاکی نے علم حاصل کرنے میں نیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو علم اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ حاصل کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق وہ علم جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو، اگر اسے نیک نیت کے ساتھ حاصل کیا جائے تو یہ عبادت کا درجہ اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے طب، صحت، زراعت، سائنسی علوم، ٹرانسپورٹ اور دیگر مفید شعبوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں مہارت حاصل کرکے معاشرے کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما نے اپنے خطاب میں ایران کی ترقی اور موجودہ حالات میں اس کی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علم و دانش نے ایران کی صلاحیتوں اور مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی قوت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے علمی صلاحیتوں سے درست استفادہ اور باصلاحیت افراد کی تربیت ناگزیر ہے۔ نوجوان نسل کو ابھی سے مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔

شیخ زکزاکی نے آخر میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ مفید علم کے حصول کے لیے بھرپور محنت کریں اور مستقبل میں اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کو معاشرے کے مسائل حل کرنے، لوگوں کی ضروریات پوری کرنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha