اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یہ تقریب ہفتہ 25 جولائی 2026 کو زاریا کے علاقے دامبو میں واقع دارالرحمہ کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جس سے تحریک اسلامی نائجیریا کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے خطاب کیا۔
شیخ زکزاکی نے اپنے خطاب کے آغاز میں حضرت امام حسینؑ کے ایامِ عزا، حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی شہادت، اربعین سیدالشہداءؑ اور شہید آیت اللہ سید علی خامنہای کی تشییع کی مناسبت سے ان عظیم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریب 28 رمضان 1436 ہجری، بمطابق 25 جولائی 2014 کو پیش آنے والے سانحۂ یومِ القدس کی یاد میں منعقد کی گئی ہے، جسے آج بارہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔
شیخ زکزاکی نے نائجیریا میں عالمی یومِ القدس ریلیوں کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک ابتدا میں زاریا میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو شروع ہوئی اور بعد ازاں عوامی حمایت کے باعث پورے ملک میں پھیل گئی، جہاں یہ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی علامت بن گئی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ القدس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور کئی دہائیوں سے جاری ظلم و قبضے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، جبکہ اس کا پیغام مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے خلاف استقامت ہے۔
شیخ زکزاکی نے 2014 کے یومِ القدس جلوس پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال دنیا بھر میں صرف نائجیریا میں اس ریلی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 34 افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ایک سال بعد تحریک اسلامی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مقصد سے اس سے بھی بڑا حملہ کیا گیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اسرائیلی رژیم کی حمایت کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی اور دن اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے، لیکن دنیا کے آزاد انسانوں کو فلسطین کی حمایت سے نہیں روکا جا سکتا۔
تحریک اسلامی نائجیریا کے سربراہ نے کہا کہ دھمکیاں اور قتل و غارت اس تحریک کو نہیں روک سکتے اور اس راستے کے پیروکار موت سے خوف زدہ ہوئے بغیر اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔
انہوں نے راہِ خدا میں شہادت کو باعثِ افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کا راستہ ہمیشہ جاری رہے گا اور ان کے پیروکار اپنے نظریات اور مقاصد سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
شیخ زکزاکی نے اپنے خطاب میں بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث افراد کو توبہ کی تلقین کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر وہ ظلم پر قائم رہے تو دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اٹھائیں گے۔
انہوں نے تقریب کے مقصد کو شہداء کی یاد تازہ کرنا، ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے مشن سے تجدیدِ عہد قرار دیا۔
خطاب کے بعد شیخ ابراہیم زکزاکی نے علمائے کرام، مسیحی مذہبی رہنماؤں، مدعو شخصیات اور شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے دارالرحمہ میں مدفون شہداء کی قبروں پر حاضری دے کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے دوران تلاوتِ قرآن کریم، دعا، ثقافتی پروگرام، شہداء کی یاد میں علامتی پریڈ، یومِ القدس کے واقعے پر مبنی نمائشی پروگرام اور قبورِ شہداء کی زیارت بھی کی گئی، جبکہ اختتام شیخ ابراہیم زکزاکی کی دعا سے ہوا۔
آپ کا تبصرہ