اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،جنوبی افریقہ میں سوشل میڈیا پر اسلام مخالف بیانیے میں اضافہ ہوا ہے، جہاں بعض حلقے مسلمانوں کو ملک پر قبضے، غیر ملکیوں اور مذہب کی آڑ میں غریبوں کو اسلام کی دعوت دینے جیسے الزامات کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ کوازولو نٹال کے دیہی علاقے نقوتو میں 105 سالہ نومسلم زولیبی جیک نگوبانے کی اسلامی طریقے سے تدفین مقامی سطح پر کسی تنازع کے بغیر ہوئی۔
مسلم سیاسی تجزیہ کار تمبیسا فاکودے کے مطابق جنوبی افریقہ میں وسیع پیمانے پر منظم اسلاموفوبیا موجود نہیں، البتہ سوشل میڈیا پر متعصبانہ خیالات ضرور پائے جاتے ہیں۔
مسلم رہنما مولانا سلیمان راوات نے خبردار کیا کہ آن لائن نفرت انگیز مواد کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ وقت کے ساتھ عوامی سوچ اور مسلمانوں کے بارے میں رویوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
جنوبی افریقہ کی 2022 کی مردم شماری کے مطابق مسلمان ملک کی آبادی کا تقریباً 1.6 فیصد ہیں، جبکہ مسلم رہنما اس تعداد کو اس سے کہیں زیادہ قرار دیتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ