تیل اور گیس کے شعبے میں تحقیق اور تجزیہ کرنے والے ادارے HFR نے میرین ٹریفک کی ویڈیو ریلیز کرکے کہا کہ "فجیرہ عملی طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔"
گذشتہ روز اسی انسٹی ٹیوٹ نے اعلان کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات میں بحری جہاز سے تیل کی منتقلی کے لئے اہم بندرگاہ فجیرہ، کام سے جاتی ہے تو یہ تیل کی منڈی کے لئے باب المندب کی بندش کے مترادف ہوگا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آج صبح خبردار کیا ہے کہ اب جبکہ امریکہ پوری دنیا کے لئے تیل اور گیس کے راستے کو غیر محفوظ بنا رہا ہے، تو اس کو انتظار کرنا چاہئے کہ تیل اور گیس کی برآمدات کے باقی راستے بھی ـ جو اس کے اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کی تکمیل کرتے ہیں ـ بند ہو جائیں۔
اب، HFR کا کہنا ہے کہ، یہاں تک کہ امریکی تحفظ بھی متحدہ عرب امارات کو مدد بہم پہنچانے میں ناکام رہا ہے اور تیل کی منڈی سے 6 ملین بیرل تیل کی منصوبہ بند سپلائی حذف ہو چکی ہے۔
میری ٹائم لاجسٹک کمپنی کے مالک اسٹولٹ نیلسن نے بھی وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ جہاز رانی کی کمپنیاں تنازعات کے آبنائے ہرمز سے باہر پھیل جانے کے بارے میں فکر مند ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ