6 جولائی 2026 - 15:15
مآخذ: ابنا
خطے میں طاقت کا توازن ایران اور مزاحمتی محور کے حق میں بدل گیا ہے:قطری میڈیا

قطری ویب سائٹ عربی 21 نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے میں طاقت کا توازن ایران اور مزاحمتی محور کے حق میں تبدیل ہوا ہے اور ایران کا علاقائی اثر و رسوخ پہلے کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوا ہے

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،قطری ویب سائٹ عربی 21 نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے میں طاقت کا توازن ایران اور مزاحمتی محور کے حق میں تبدیل ہوا ہے اور ایران کا علاقائی اثر و رسوخ پہلے کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مبینہ "اسلام آباد معاہدے" کی اہم شقوں میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری ایران کے سپرد کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

عربی 21 کے مطابق اس معاہدے میں لبنان سے متعلق بھی متعدد نکات شامل ہیں، جن میں جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے انخلا اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات شامل بتائے گئے ہیں۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے وقت پیدا ہونے والا طاقت کا توازن ایران کے حق میں تھا، جبکہ آبنائے ہرمز، امریکہ کے داخلی مسائل اور بین الاقوامی دباؤ کو ان عوامل میں شمار کیا گیا ہے جنہوں نے امریکی مؤقف کو متاثر کیا۔

عربی 21 نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس عمل میں سب سے زیادہ سیاسی نقصان اٹھانے والی شخصیت رہے، جبکہ ایران نے جنگ کے بعد اپنی علاقائی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔

رپورٹ کے مطابق بعض عرب حلقے بھی جنگ کے بعد ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کا اعتراف کرتے ہیں، تاہم یہ تمام نکات عربی 21 کے تجزیے اور اس کے مؤقف پر مبنی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha