بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایک عراقی صحافی " علی السرای" نے العالم نیٹ ورک کی ویب گاہ پر شائع ہونے والی ایک تحریر میں، ارض ایران پر حالیہ امریکی - صہیونی جارحیت کے نتیجے میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شہادت پر اپنے ردعمل میں لکھا:
جن لوگوں نے تشیّع کی تاریخ کا مطالعہ کیا تھا، انہیں یوم عاشورا اور سرزمین کربلا میں وہ خونریز عصر یاد آنا چاہیے تھا؛ وہ دن جب شہادت، کسی راستے کا خاتمہ نہیں، بلکہ جاودانگی کا آغاز بن گئی۔ وہاں جہاں حسین بن علی (علیہ السلام)، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے نواسے نے ایک ابدی ندا کے ساتھ اعلان کیا کہ حق کی راہ میں موت، حریت پسند انسانوں کے لئے شکست نہیں کے زمرے میں نہیں آتی اور شہادت اللہ کی عطا کردہ عزت و کرامت ہے۔
یزید اور اس کے لشکریوں کا وہم تھا کہ امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے ساتھ وہ انہیں صفحۂ تاریخ سے مٹا پائیں گے، لیکن وہ یہ جاننے اور سمجھنے سے قاصر تھے کہ وہ اپنے اس جرم کے ساتھ، حسین (علیہ السلام) کا نام انسانیت کے ضمیر پر ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید بنادیں گے۔
آج بھی زمانے کے یزید نے وہی تاریخی غلطی دہرائی؛ اس فرق کے ساتھ کہ اس بار دشمن نے اس چیز کے مقابلے میں ـ جس کو محور مقاومت اور استکبار کے خلاف جدوجہد کہا جاتا ہے، ـ یہ گمان کیا کہ رہبر انقلاب اسلامی کو شہید کرکے بڑی فتح حاصل کرے گا، لیکن حقیقت میں، اس اقدام کے ساتھ، اس نے آپ کا نام و مقام ایک ابدی، بلند اور بادوام مرتبے پر ثبت کر دیا۔
مجھے یقین ہے کہ ہمارے رہبرِ شہید برسوں سے ان شہیدوں کے قافلے میں شامل ہونے کے منتظر تھے جو آپ سے پہلے جہاد اور قربانی کی راہ پر گامزن ہوئے تھے۔ آپ جب بھی شہداء کے بارے میں سنتے یا ان کے خاندانوں سے ملنے جاتے، تو آپ کا دل غم سے بھر جاتا تھا؛ کیونکہ آپ خود کو ان کے قافلے سے دور پاتے تھے اور ان سے جا ملنے کی آرزو کرتے تھے۔
لیکن مشیتِ الٰہی یہ تھی کہ آپ طویل برسوں تک اپنی امت کے ساتھ رہیں، ہدایت اور قیادت کی ذمہ داری نبھائیں اور تاریخ کے مد وجزر سے بھرپور بحر زخار میں اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکاروں کی کشتی کی پَتْوار سنبھالے رہیں؛ اور آخرکار، شہادت کا انعام پائیں۔
آپ اس بات پر غمگین تھے کہ جنگ کے میدانوں میں اپنی موجودگی کے دوران اس مقام عظیم کے حصول کا موقع نہیں حاصل کر پائے تھے، لیکن الٰہی تقدیر نے آپ کے لئے ایک اور منظر آراستہ کیا تھا؛ وہ شہادت جو میدان جنگ میں نہیں ملی تھی، آپ کو اپنے گھر میں نصیب ہوئی اور آّپ کی بابرکت زندگی کے اختتام کو آپ کے سر پر تاجِ شہادت سجا کر رقم کیا۔
بلاشبہ، سب سے بڑا تحفہ جو خدائے متعال نے آپ کے لئے مقدر کیا تھا، یہی تھا، کہ راہ حیات کے آخر میں، آپ اپنی سب سے بڑی آرزو تک پہنچیں اور شہیدوں کے قافلے میں شامل ہو جائیں۔
گویا شہادت کے لمحوں میں، آپ کی زَبانِ حال، وہی قول، تھی جو آپ کے جدّ بزرگوار امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) نے ابن ملجم کی ضربت کے بعد فرمایا تھا: "فزت برب الکعبۃ؛ رَبِّ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔"
پروردگارِ کعبہ کی قسم! ہمارے رہبرِ شہید، ہمارے عزیز اور ہمارے پیشوا، اس بڑی جنگ میں ـ جس کو حق و باطل کی جنگ سمجھتے تھے، ـ سب سے بڑے اعزاز تک پہنچا۔
دشمن نے گمان کیا کہ وہ بزدلانہ اور دہشت گردانہ قتل کے ذریعے اس شہیدِ بزرگوار کا راستہ اور فکر ختم کر پائے گا، لیکن تاریخ نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ شہادت، بقاء و استمرار کے نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ شہداء محدود اور فانی زندگی کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور امتوں کی یادوں اور اپنے پیروکاروں کے عقیدے میں حیاتِ جاوداں پا لیتے ہیں۔
سلام ہو آپ پر اے رہبرِ عظیم الشان؛ اے وہ جو قافلۂ کربلا اور دنیا بھر کے احرار کے سید و سردار حسین بن علی (علیہ السلام)، کی راہ سے جا ملے۔
میں اس عظیم فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خدائے متعال سے التجا کرتا ہوں کہ وہ انہی کرامتوں اور الٰلہ کی ان ہی نوازشوں سے جنہیں وہ اپنے نیک بندوں کو عطا کرتا ہے، ہمیں بھی فیضیاب کر دے اور صالح بندوں کے زمرے میں شامل کر دے؛ کیا خوب ساتھی ہیں صالحین۔
اللہ کی رحمت ہو آپ پر اے ہمارے مولا، اور راہ ایمان و حقیقت کے تمام تمام شہیدوں پر۔
تاریخی لعنت و رسوائی ہو خدا کے دشمنوں اور حقیقت کے دشمنوں پر۔
اے ابو مجتبیٰ! آرام سے سوئیں، کیونکہ آپ کی میراث ان مردوں کے ہاتھوں میں ہے جو سخت ترین طوفانوں کے سامنے کھڑے ہیں؛ ایسے مرد جو چٹانوں کو ہلا دیتے ہیں لیکن ان کے قدم ان کے عقیدے اور مشن و مقصد کے راستے میں، ہرگز نہیں ڈگمگاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ