بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پاکستانی مضمون نگار 'شبیر حسین امام' نے آج نیوز کی ویب گاہ پر اپنا مضمون شائع کرکے لکھا:
امریکہ اُور اِس کے اتحادی ممالک ایران کو بموں سے ڈرانے اُور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پے در پے حملوں سے بھی شکست نہیں دے سکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ پیسوں کا لالچ دے کر اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچا سکتے ہیں؟ کئی ہفتوں کے جھگڑے اور بحث کے بعد‘ امریکہ اور ایران نے جنگ ختم کرنے کے لئے مختصر امن یادداشت پر دستخط کر دیئے ہیں۔ مذکورہ معاہدے کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران صدر ٹرمپ کو یقین دلا دے کہ اس نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ چھوڑ دیا ہے‘ تو ایران پر پیسوں کی برسات کر دی جائے گی لیکن یہ بہت بڑا اور خطرناک جُوا ہے‘ جس نے مشرق ِوسطیٰ کے ملکوں کو گہری سوچ میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ اِن ممالک نے جو ذلت آمیز ترقی امریکہ کی دوستی سے کما لی تھی، ایران نے انتہائی دلیری سے، جنگ جیت کر، اپنے نام کر لی ہے۔
ٹرمپ کے جنگی مقاصد کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایران کے ساتھ نئے معاہدے نے صدر ٹرمپ کے تمام پرانے جنگی مقاصد کو خاک میں ملا دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دوری بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اب ایران میں حکومت بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں‘ ایران کے مبینہ طور پر‘ پسے ہوئے عوام کے لئے امریکہ کی جانب سے ہمدردی کا اظہار بھی نہیں ہو رہا‘ اور نہ ہی ایران کے میزائل پروگرام یا اس کی حامی تنظیموں (جیسا کہ حزب اللہ) پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس کے برعکس‘ امریکہ ایران معاہدہ جن امور پر مرکوز ہے اُن میں سرفہرست اہم بحری گذرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں ٹرمپ کی جنگی حکمت ِعملی کی ناکامی اُور پسپائی بڑی ذلت پر منتج ہوئی ہے۔ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے بحری جہاز مفت گذرتے تھے‘ لیکن اب اس معاہدے کے 60 دنوں کے بعد‘ جہازوں کو یہاں سے گذرنے کے لئے ایران کو فیس (ٹیکس) دینا پڑے گا۔
ایران کے جوہری عزائم (ایٹمی پروگرام) بھی اپنی جگہ موجود ہیں ختم نہیں ہوئے، ایٹم بم نہ بنانے کا اس کا اعلان تو بہت پرانا ہے۔ اگر تفصیلات کو دیکھا جائے تو اس معاملے میں ایرانی حکومت نے کچھ بھی نہیں کھویا۔
ایران وقت کو کھینچنے اور بات چیت کو طویل کرنے کرنے کا ماہر ہے اُور اِسی مہارت کی بھی جیت ہوئی ہے کہ اب ایران پر اربوں ڈالر کے انعامات کی بارش ہونے والی ہے اور اُسے بھاری مراعات دی جا رہی ہیں۔
ایران اب فوراً تیل بیچ سکے گا۔ جیسے جیسے بات چیت آگے بڑھے گی‘ امریکہ ایران کے منجمد اربوں ڈالر کے اثاثے بھی بحال کرتا چلا جائے گا‘ عالمی و امریکی اقتصادی پابندیاں بھی ہٹائی جائیں گی اور ایران کی دوبارہ تعمیر کے لئے 300 ارب ڈالر کا فنڈ بنانے میں بھی امریکہ مدد دے گا۔
صدر ٹرمپ جنگ سے تھک چکے ہیں۔ منصوبے کے مطابق اگر امریکی فوجیں 30 دنوں کے اندر خلیج فارس کے خطے سے نکل گئیں‘ تو امریکہ کے پاس طاقت استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں رہے گا۔
ایران کے لئے سنہری موقع ہے مگر خطرات بھی اپنی جگہ برقرار ہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل شاطر ہیں اور اُن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کی حکومت کے پاس ایٹمی پروگرام کے بدلے نقد رقم اور سرمایہ کاری حاصل کرنے کا تاریخی موقع اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتا ہے جس سے ’انقلاب ایران‘ کا پیغام اور تحاریک دنیا بھر میں مضبوط ہوں گی۔
امریکی و مغربی تجزیہ کار امریکی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ماضی کے امریکی صدور کے برعکس‘ ٹرمپ کو جمہوریت کی پروا نہیں رہی چونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اپنی طاقت منوا لی ہے‘ اس لئے شاید اب اسے ایٹم بم کی ضرورت بھی نہیں رہی۔
ایران کو ملنے والے اربوں ڈالر اور مزید کاروبار کی اجازت سے موجودہ نظام حکومت عوام میں مزید مقبول ہو گا۔ ایران کے سخت گیر سیاسی و نظریاتی مؤقف رکھنے والے رہنما امریکہ تو کیا‘ امریکہ کے لئے نرم خارجہ پالیسی رکھنے والے ممالک پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔ کسی نہ کسی درجے‘ انہیں پورا یقین ہے کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ معاہدے (ڈیل) کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا۔
اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ایران کو خطے میں جو بھی بالادستی اور تسلط حاصل ہے وہ امریکہ کی دشمنی کی وجہ سے ہے اُور یہ بات ایران کی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ ایٹمی پروگرام ایران کے لئے صرف عزت ہی نہیں بلکہ تحفظ کی بھی علامت ہے۔
امریکہ ایران معاہدے کے بعد‘ دنیا کی نظریں جوہری ٹیکنالوجی کے ماہرین (’بین الاقوامی انسپکٹرز‘) پر ٹکی رہیں گی جو ایران کو‘ اور ایران اُن کو چکما دینے کی کوشش کرے گا۔
ایران کے رہنما چاہیں گے کہ وہ پیسہ بھی کما لیں اور اپنا ایٹمی پروگرام بھی جاری رکھیں۔
اِس پورے منظرنامے میں اسرائیل اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی مایوسی صاف دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیل نے 28 فروری 2026 سے ایران پر حملے کے بعد سے ہر دن زیادہ حملوں پر اصرار کیا لیکن نتیجہ اس کے لئے تلخ اور مایوس کن ثابت ہوا۔
اسرائیل نے امریکیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جنگ لڑی مگر ٹرمپ نے اسے مذاکرات سے الگ کر دیا اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مہم کو بھی رکوا دیا۔
اس ناکامی کی وجہ سے اسرائیل کے وزیر ِاعظم بنیامین نیتن یاہو اکتوبر کے انتخابات ہار سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کے تمام منصوبے‘ جنگی حکمت عملیاں اُور دہائیوں پر محیط سرمایہ کاری ناکام ہوئی ہے۔ اسرائیل کے لئے بھی [امریکہ کی طرح] یکساں طور پر ایران سے جنگ ناکامیوں کا مجموعہ رہی کیونکہ ایران اب بھی خطرہ ہے اُور وہ کسی بھی وقت پہلے سے زیادہ خطرہ بن کر اُبھر سکتا ہے۔
دوسری طرف نیتن یاہو نے دیکھ لیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل کی جیت کے لئے کہاں تک جا سکتا ہے اور وہ حد اسرائیل کے لئے کافی ہے یا نہیں۔
دوسری طرف‘ خلیج فارس کے ممالک (جیسا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کتنی ہی خوش فہمی کا مظاہرہ کریں‘ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی ڈرونز اور میزائل ان کے لئے خطرہ بنے رہیں گے؛ اور خلیج فارس کے عرب ممالک کو اپنی سیکیورٹی کا پورا نظام بدلنا پڑے گا کیونکہ اب کوئی نہیں جانتا کہ امریکہ مستقبل میں ان کے لئے لڑے گا یا نہیں۔
صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہی نہیں کرنا چاہیئے تھی کیونکہ وہ ایک بار پھر جنگ کی دلدل سے نکلنے کے لئے‘ پرانے خیال کا سہارا لے رہا ہے "لوگ پیسے کے لئے کچھ بھی کریں گے" لیکن سفارت کاری کا پہلا اصول یہ ہے کہ کبھی یہ مت سوچو کہ آپ کا دشمن بھی بالکل آپ ہی کی طرح سوچے گا۔
۔۔۔۔۔
ضروری نہیں ہے کہ ابنا خبر ایجنسی مضمون نگار کے تمام خیالات سے متفق ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: شبیر حسین امام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ