5 جون 2026 - 23:28
امریکی احمق نہیں ہیں، ٹرمپ جنگ ہار رہے ہیں، سارا جیکبز

امریکی قانون ساز نے بدھ کے روز ایران کی جنگ کے اربوں ڈالر کے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے اس جنگ میں واشنگٹن کی 'فتح' کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی کانگریس کی رکن سارا جیکبز نے بدھ (3 جون 2026ع‍ کو) ـ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ـ کانگریس کی سماعت کے دوران ایران جنگ کی وجہ سے امریکیوں پر عائد ہونے والے بھاری اخراجات پر تنقید کی۔

جیکبز نے پہلے ایران جنگ کے خاتمے اور امریکہ کی فتح کے بارے میں روبیو کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا: 'میں ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔ کل سینیٹ میں تمہاری شہادت میں، تم نے سینیٹر بوکر سے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ یہ خبر میرے لیے نئی ہے۔ نیز میرے 2500 ووٹروں کے لئے، ـ جو سان ڈیاگو میرینز کے طور پر مشرق وسطیٰ میں اور ایران کے ساحلوں پر ہیں، اور دوسرے ووٹرز کے لئے جو وہاں تعینات ہیں اور ہزاروں دوسرے لوگوں جنہیں 48 گھنٹے کی تعیناتی کی اطلاع ملی ہے اور جن کے خاندان اب بھی بہت پریشان ہیں، ـ بھی نیا ہے۔'

انھوں نے 'حماسی غضب (So-called Epic fury)' آپریشن کے خاتمے کے بارے میں روبیو کے بیانات کے ردعمل میں کہا: 'جناب وزیر، آپ آپریشن کا نام بدل سکتے ہیں۔ لیکن یہ اس حقیقت کو نہیں بدلے گا کہ آبنائے (ہرمز) اب بھی بند ہے اور میرے دستے اور ہمارے تمام دستے اب بھی خطرے میں ہیں۔ جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔'

امریکی قانون ساز نے یاددہانی کرائی: "امریکی انٹیلیجنس اداروں نے ایران کی فوجی طاقت کی تباہی کے دعوے کو مسترد کیا ہے؛ ہماری انٹیلیجنس کمیونٹی نے کہا ہے کہ ایران اپنے صنعتی-فوجی اڈوں کو ہماری پیش گوئی سے کہیں زیادہ تیزی سے بحال کر رہا ہے اور تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اس کے پاس اب بھی اپنے تقریباً 70 فیصد میزائل ذخائر اور 70 فیصد موبائل لانچر موجود ہیں۔"

امریکی احمق نہیں ہیں، ٹرمپ جنگ ہار رہے ہیں، سارا جیکبز

جیکبز نے مزید کہا: "آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلا تھا؛ اور اب بند ہے۔ ہم نے 14 امریکی فوجی کھو دیئے ہیں! (1)۔ 400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور ایران کی حکومت بڑی حد تک سلامت رہی ہے... لہٰذا میرے خیال میں مجھے آپ سے دوبارہ پوچھنا چاہیے، جناب وزیر، کیا واقعی یہ آپ کو فتح معلوم ہوتی ہے یا شکست؟"

انھوں نے اس بارے میں کہا: "تم کہتے ہو کہ 'ہم جیت رہے ہیں' اور دلیل دے رہے ہو کہ 'ایران کی معیشت افراط زر اور مہنگائی کا شکار ہے اور ایران کو روزانہ کی آمدنی میں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور چونکہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تعمیر نو پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی۔ ٹھیک ہے! لیکن ہمیں بھی مہنگائی کا سامنا ہے۔ اس مہنگائی نے ہمیں اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے اور جنگ کا کوئی انجام نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایک اوسط خاندان پٹرول پر 450 ڈالر اضافی رقم خرچ کر رہا ہے اور سال کے آخر تک 2000 ڈالر اضافی ادا کر ے گا۔"

امریکی کانگریس کی رکن نے مزید کہا: "امریکی عوام احمق نہیں ہیں، جناب وزیر۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔ کل رات ہی، امریکہ اور ایران نے دوبارہ ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔ اس بار جزیرہ خارگ میں۔"

جیکبز نے یاددہانی کرائی: "ہم ابھی تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں، صدر نے وعدہ کیا کہ 'معاہدہ قریب ہے'، لیکن انھوں نے آج ہی یہ بھی کہا کہ 'محاصرہ لیبر ڈے (ماہ ستمبر) تک جاری رہ سکتا ہے۔ اب اُس جنگ کا 99واں دن ہے جبکہ صدر نے کہا تھا کہ وہ اس جنگ کو جلدی ختم کرنا چاہتا ہے۔"

انھوں نے روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "جناب وزیر، ایسا لگتا ہے کہ تمہیں حقائق قبول کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے ہو کہ صدر 2020 کا الیکشن ہار گیا، بالکل اسی طرح جیسے تم یہ قبول نہیں کرتے ہو کہ صدر ٹرمپ اپنی اس مرضی کی گستاخانہ اور لاپروائی پر مبنی جنگ کو ہار رہا ہے۔"

امریکی احمق نہیں ہیں، ٹرمپ جنگ ہار رہے ہیں، سارا جیکبز

امریکی قانون ساز نے مزید کہا: "تم واضح طور پر نہیں جانتے ہو کہ 'فتح' ہوتی کیا ہوتی ہے۔ اس لئے نہیں کہ تم پر حقیقت واضح نہیں ہے؛ بلکہ اس لئے کہ حقیقت بتاؤگے تو تمہاری نوکری جاتی ہے۔ امریکی عوام اس وزیر خارجہ کے مستحق ہیں جو انہیں حقیقت بتا دے چاہے صدر سننا نہ بھی چاہے۔ میرے ووٹر، ہمارے فوجی، اس سے بہتر کے مستحق ہیں۔"

مارکو روبیو ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد سے، پہلی بار، امریکی سینیٹ میں حاضر ہؤا تھا اور اسے اگلے دن بھی امریکی کانگریس میں امریکی قانون سازوں کے سوالات کے جواب دینا پڑے۔

روبیو نے ایران کے بارے میں ٹرمپ کے دعوؤں کو دہراتے ہوئے، ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کے مبینہ کامیابیوں کے بارے میں بات کی، لیکن اس کو متعدد امریکی نمائندوں کے منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

اب تک متعدد امریکی سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے امریکہ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنگ جاری رہنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ امریکی فوج کے جانی نقصانات پر سنسرشپ حکمفرما ہے ورنہ جانی نقصانات سینکڑوں گنا زیادہ ہیں۔ پینٹاگون نے صہیونی ریاست کی طرح فوجی نقصانات پر وسیع پیمانے پر منظم سنسر شپ لاگو کر رکھا ہے: 2020 سے اب تک۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: محمد رضا جعفری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha