18 جون 2026 - 19:19
مآخذ: ابنا
ایران کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی قیمت امریکہ کو برسوں چکانا پڑے گی، سوزان رائس

امریکہ کی سابق قومی سلامتی مشیر سوزان رائس نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی دستاویز پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکی خارجہ اور قومی سلامتی کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی سابق قومی سلامتی مشیر سوزان رائس نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی دستاویز پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے امریکی خارجہ اور قومی سلامتی کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں سوزان رائس نے کہا کہ یہ ایک "حیران کن اور خوفناک ہتھیار ڈالنے والی دستاویز" ہے، جس میں سینکڑوں ارب ڈالر کے ہرجانے کی شقیں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال نااہل مذاکرات اور ایک غیر دانشمندانہ اسٹریٹجک فیصلے کا قابلِ پیش گوئی نتیجہ ہے، جس نے اس تنازع کو جنم دیا اور اسے طول دیا۔

سابق امریکی قومی سلامتی مشیر کے مطابق، "امریکہ اپنی حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی قومی سلامتی کی غلطی کے اثرات سے جلد باہر نہیں نکل سکے گا۔"

دریں اثنا، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں ڈیجیٹل اور غیرحضوری طریقے سے دستخط کیے۔

رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور تنازع کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک فراہم کرنا ہے، تاہم اس کی تفصیلات پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ش

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha