بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نیوز چینل سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے مئی کے آخر میں ایران میں زمینی افواج بھیجنے اور اس ملک کے افزودہ یورینیم پر عملی طور قبضے کے لئے ایک انتہائی محفوظ اور فوری منصوبہ تیار کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس آپریشن کے شدید خطرات سے آگاہ ہونے کے بعد، بشمول امریکی فوجیوں کے بھاری جانی نقصان اور عالمی معاشی تباہی، اسے روک دیا۔
دو مطلع ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے کہ جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف امریکہ نے 19 مئی کو فلوریڈا میں سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) کے ہیڈکوارٹر میں ایک فوری اور خفیہ اجلاس بلایا۔
اس اجلاس کا موضوع ایران کے جوہری تنصیبات پر زمینی افواج بھیجنے کے آپشنز کا جائزہ لینا تھا تاکہ تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم (جو ہتھیاروں کی ڈگری سے تکنیکی طور پر تھوڑے فاصلے پر ہے) کو نکالا [یعنی چوری کیا] جا سکے۔
سی این این کے دعوے کے مطابق، یہ اجلاس اتنا حساس اور فوری تھا کہ جنرل کین نے برسلز میں نیٹو کے اعلیٰ اہلکاروں کا اجلاس ادھورا چھوڑ دیا اور تیزی سے فلوریڈا روانہ ہو گیا۔
باخبر ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کو رپورٹ پیش کرنے کے بعد، امریکی صدر نے اس آپریشن کے نتائج (بشمول اسپیشل فورسز میں بھاری جانی نقصان، انصاراللہ کا جنگ بندی سے پیچھے ہٹنا، اور آبنائے باب المندب کی بندش) کے بارے میں سنجیدہ انتباہات کے پیش نظر، آپریشن "روکنے" کا حکم دیا۔
ایک باخبر ذریعے ذریعے نے کہا: "خطرہ بہت زیادہ ہے" اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ ٹرمپ نے فوج کو سبز اشارہ نہیں دیا!
ٹرمپ کی بنیادی تشویش "امریکی جانی نقصان کی قابل ذکر تعداد" تھی۔ یہ معاملہ اس کے حالیہ انٹرویو میں فاکس نیوز کے ساتھ بھی عیاں ہؤا: "میں نہیں جانتا کہ امریکہ اسے برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔"
نکتہ:
یہ رپورٹ اسی دوران ایک عملی آپریشن کا ماجرا چھپانے کے لئے تیار کی گئی ہے؛ یہ حقیقت چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔
امریکہ نے یہ کاروائی گرے ہوئے طیارے کے پائلٹ کی جان بچانے کے بہانے انجام دی اور درجنوں جہاز اور ہیلی کاپٹر کھو دینے کے بعد یہ کاروائی ناکام ہوئی۔ رپورٹ کے ذیل میں آنے والے لنکس ضرور ملاحظہ کریں تاکہ آپ پر بھی یہ جھوٹ عیاں ہوجائے۔
اس رپورٹ کے آخر میں دیئے گئے "طبس 2 کے عنوان سے ـ لنکس اس جھوٹی رپورٹ کو بخوبی عیاں کر دیتے ہیں۔ /\
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ