بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ پر صہیونی ریاست کے حملے کے جواب میں، مقبوضہ فلسطینی اراضی میں صہیونیوں کے اہم ٹھکانوں پر سپاہ پاسداران کے میزائل حملوں کے چند منٹ بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کے متعدد عہدے داروں نے ان اس پیش رفت ردِ عمل ظاہر کیا:
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن اور سپاہ پاسداران کے سابق کمانڈر انچیف میجر جنرل محسن رضائی نے ایک پیغام میں کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران نے کئی بار اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور لبنان پر حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ آج رات جارحوں کو ان کے کئے کا جواب مل گیا۔ یہ جواب ایک انتباہ ہے تاکہ وہ شر انگیزیوں سے باز آئیں؛ ہر نئے اقدام کا جواب مزید تباہ کن ہوگا اور جارحوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔"
علاوہ ازیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی، نے سوشل نیٹ ورک "ویراستی" پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ میں جاری کردہ ایک مختصر پیغام میں لکھا:
"الوعده وفا (وعدہ وفا ہو گیا)"۔
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے کمانڈر فلائٹ میجر جنرل ڈاکٹر علی عبداللہی نے بھی ایک پیغام جاری کرتے ہوئے زور دیا: "صہیونی فوج کو جنوبی لبنان اور ضاحیہ پر اپنے حملے بند کرنے چاہئیں، اور اگر وہ اس علاقے میں اپنے حملوں میں توسیع کرتی ہے یا ایرانی کاروائی کا جواب دیتی ہے تو اسے مزید تباہ کن اور پشیمان کن ضربوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ریاست اور اس کے حامیوں کے خلاف تباہ کن حملے شروع کر دیئے جائیں گے۔"
انھوں نے لبنان پر صہیونی ریاست کے حملوں کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "غاصب صہیونی ریاست نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے، امریکہ کی حمایت اور بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کے سائے میں مظلوم لبنانی عوام کے خلاف اپنی شرارتوں میں اضافہ کیا ہے، اور ممنوعہ ہتھیار ـ بشمول فاسفورس بم ـ استعمال کر کے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔"
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے یہ بھی واضح کیا: "اسلامی جمہوریہ ایران کی پہلے کی وارننگز کے باوجود، صہیونی ریاست نے سرخ لکیروں کو پامال کرکے، اور جنوبی لبنان میں حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے، بیروت کے جنوبی ضاحیہ کو نشانہ بنایا۔ اس سے پہلے بھی ہم نے انتباہ کیا تھا کہ اگر ضاحیہ بیروت میں جرم میں توسیع کی گئی تو ہم مقبوضہ سرزمینوں میں اہداف پر حملہ کریں گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ