8 جون 2026 - 04:22
حصۂ اول امریکہ سے اسرائیل کی جاسوسی نے پینٹاگون کی سرخ لکیر کو پامال کر دیا

نیویارک ٹائمز اور این بی سی نیوز نے انکشاف کیا کہ پینٹاگون نے اسرائیل کی جاسوسی کے خطرے کی سطح کو "اعلیٰ" سے بڑھا کر "بحرانی" کر دیا ہے۔ بنیادی ہدف، ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا سینئر مذاکرات کار اسٹیو وٹکاف، اور پینٹاگون کے دو اعلیٰ عہدیدار تھے۔ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے کاؤنٹر-انٹیلی جنس خطرے کی سطح کو "اعلیٰ" (High) سے بڑھا کر اعلیٰ ترین یعنی "بحرانی" (Critical) کر دیا ہے۔ یہ اضافہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف صہیونی ریاست کی جاسوسی سرگرمیوں میں شدید خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز اور این بی سی نیوز کے مطابق، DIA کی تشخیص نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی "انسانی جاسوسی اور تکنیکی جاسوسی" کی صلاحیت "بحرانی" سطح پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ان کارروائیوں کے بنیادی اہداف ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے اہم ذمہ دار اسٹیو وٹکاف (Steven Witkoff)، پینٹاگون کے سینئر پالیسی مشیر ایلبریج کولبی (Elbridge Colby)، اور ان کے نائب مائیکل ڈیمینو تھے۔ جاسوسی کے اقدامات سادہ شنود سے آگے تھے اور ان میں امریکی فوجی اہلکاروں کے موبائل فونز میں جاسوسی سافٹ ویئر نصب کرنے کی کوششیں، نیز ڈی آئی اے (DIA) کے ہیڈکوارٹر اور امریکی سیکرٹ سروس کی گاڑیوں میں ـ خفیہ طور پر سننے کے (eavesdropping) کے آلات نصب کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔ ایک امریکی سینئر عہدیدار نے ان اقدامات کو "جنونی اور قابو سے باہر" قرار دیا ہے۔

محرک؛ ایران مذاکرات کے انجام پر مسابقت

اسرائیل کا ان اقدامات کا بنیادی محرک صنعتی یا فوجی جاسوسی نہیں، بلکہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش تھا۔ جہاں ٹرمپ جنگ کے خاتمے اور سفارتی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے، وہیں نیتن یاہو تہران پر فوجی دباؤ جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔

ان رپورٹس کے مطابق، اسرائیل شدید طور پر فکر مند ہے کہ امریکہ کہیں تل ابیب کے سیکورٹی مفادات کو مدنظر رکھے بغیر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ کر لے۔ اسی وجہ سے، اس نے وٹکاف اور دیگر عہدیداروں کی گفتگو کو خفیہ طور پر سن کر مذاکرات میں امریکی موقف اور سرخ لکیروں کی تفصیلات سے آگاہ ہونے کی کوشش کی ہے۔ [وٹکاف بھی جرڈ کوشنر کی طرح یہودی ہے اور کوشنر کی طرح، نیتن یاہو کا آدمی سمجھا جاتا ہے] یہ اقدامات ایسے موقع پرکئے جا رہے ہیں جب دونوں ریاستیں باضابطہ طور پر تزویراتی حلیف ہیں اور ان کی فوجیں آپریشنل سطح پر قریبی ہم آہنگی رکھتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: فاطمہ کاوند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha