بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم سورہ زمر کی آیات 11 تا 21 میں حق و باطل کے محاذوں کی حدود کو، واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ان آیات میں راستے کے انتخاب کی بات کی گئی ہے، ایسا انتخاب جو صرف دلی اعتقاد تک محدود نہیں، بلکہ عمل، اطاعت، استقامت اور دباؤ سے نمٹنے کے انداز میں خود کو ظاہر کرتا ہے۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ تفسیر المیزان اس حصے میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں اللہ کا دین بکھرے ہوئے انتخابوں کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ایسی حقیقت ہے جو انسان کو خدا کے حضور مکمل اخلاص تک پہنچاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصۂ سوئم:
آگے جاکر خدائے متعال خبردار کرتا ہے کہ:
"ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ؛
یہ وہ (عذاب) ہے جس سے ڈراتا ہے اللہ اپنے بندوں کو۔ اے میرے بندو! تو ڈرو تم مجھ سے۔"
درحقیقت مقصد صرف خوف پیدا کرنا نہیں، قرآن چاہتا ہے کہ انسان ناقابل واپسی نقطے پر پہنچنے سے پہلے، اپنا راستہ درست کر لے۔
محاذِ حق پر جمے رہنے والوں کا اجر؛ سن کے انتخاب کرنے والوں کے لئے خوشخبری
قرآن منظر کا دوسرا رخ دکھاتا ہے، ان لوگوں کا انجام جو حق کے محاذ پر استقامت کرکے کھڑے رہتے ہیں۔ سورہ زمر کی آیات 17 تا 18 ان افراد کے بارے میں بات کرتی ہیں جو طاغوت سے دوری اختیار کرتے ہیں اور خدا کی طرف پلٹ آتے ہیں:
"فَبَشِّرْ عِبَادِ * الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ؛
خوش خبری دیجئے میرے ان بندوں کو * جو بات غور سے سنتے ہیں تو جو اس کا بہترین جز ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں۔"
اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی مؤمن متعصب اور بے فکر انسان نہیں ہے، وہ سنتا ہے، سوچتا ہے، پھر بہترین راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ قرآنی ایمان بصیرت پر مبنی ہے، اندھی تقلید پر نہیں۔
یہ خصوصیت محاذ حق کے استحکام اور مضبوطی کے اہم ترین عناصر میں سے ہے۔ بصیرت رکھنے والا انسان دباؤ اور فتنوں کے میدان میں جلدی سے لغزش سے دوچار نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے انتخاب کا معیار حقیقت ہے نہ کہ شوروغل اور ہنگامہ آرائی۔
آخر میں قرآن دو گروہوں کے درمیان واضح موازنہ کرتا ہے؛ کیا جو شخص یقینی عذاب میں گرفتار ہے اور جو ہدایت والا ہو، دونوں برابر ہوں گے؟ جواب واضح ہے۔ راستے مختلف ہیں اور انجام بھی مختلف ہوں گے۔
ان آیات کا مجموعی پیغام واضح ہے کہ محاذ حق کی حقیقی طاقت اخلاص اور اللہ کی اطاعت میں ہے، دشمن خواہ ظاہر میں خود کو کامیاب ہی کیوں نہ سمجھے، لیکن اگر وہ الٰہی راستے سے دور ہو جائے تو عظیم نقصان سے دوچار ہو گا؛ اور اس کے مقابل پر وہ ثابت قدم مؤمنین جو بصیرت اور استقامت کے ساتھ حق کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ اللہ کی بشارت و ہدایت کے مستحق ہوں گے۔ قرآن کی منطق میں، مستقبل انہی کا ہے جو سخت ترین میدانوں میں بھی اللہ کے فرمان کو تمام دیگر مصلحتوں پر مقدم رکھتے ہیں۔
ان آیات کی تلاوت قرآن کریم کے صفحہ 460 پر، سن لیجئے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ