26 اپریل 2026 - 22:18
امارات-اسرائیل بھائی بھائی؛ آل نہیان کے لئے آل صہیون کا آئرن ڈوم کا تحفہ

ایکسیوس نے لکھا ہے کہ نیتن یاہو نے جنگ کے ابتدائی ایام میں ـ محمد بن زاید آل نہیان کی درخواست پر ـ نہ صرف آئرن ڈوم امارات میں تعینات کر دیا بلکہ اس ایئرڈیفنس سسٹم کے درجنوں آپریٹرز بھی اس ریاست میں بھجوا دیئے، جو ایک غیر معمولی واقعہ ہے: عرب ملک میں صہیونیوں کی تعیناتی اور صہیونیوں سے مدد لینا!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایکسیوس نیوز ویب سائٹ نے دو اسرائیلی اور ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے آغاز میں، ایک آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم اور متعلقہ آپریٹروں کا ایک گروپ امارات میں تعینات کیا تھا۔

صہیونی آئرن ڈوم اور اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی ـ جو اب تک درپردہ رہی تھی ـ کی اہمیت یہ ہے کہ امارت اور صہیونیوں کی باہمی اخوت عدیم المثال سطح تک پہنچی ہے، کہ گویا امارات صہیونی ریاست کا ایک ڈسٹرکٹ ہے!

امارات-اسرائیل بھائی بھائی؛ آل نہیان کے لئے آل صہیون کا آئرن ڈوم کا تحفہ

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے آغاز سے جنگ رکنے کے دن تک، امارات کسی بھی دوسری عرب ریاست کے مقابلے میں زیادہ، ایرانی انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنا ہے اور اماراتی وزیر دفاع کے اعلان کے مطابق، ایران نے تقریبا 550 بیلسٹک اور کروز میزائل اور 2200 تباہ کن نہیانی قبیلے کے تحت امریکی اڈوں اور مفادات پر داغے ہیں۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، امارات وسیع پیمانے پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں، آل نہیان حکومت نے اپنے 'اتحادیوں' (یعنی آقاؤں) سے مدد مانگی۔

اسرائیلی اہلکاروں نے ایکسیوس کو بتایا کہ نیتن یاہو نے محمد بن زائد آل نہیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد اپنی فوج کو حکم دیا کہ آئرن ڈوم کی ایک بیٹری، متعلقہ راکٹ اور کئی درجن آپریٹر امارات بھجوا دے۔

ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل نے پہلی مرتبہ آئرن ڈوم کی ایک بیٹری مقبوضہ فلسطین سے باہر بھجوائی اور امارات، امریکہ کے بعد، دوسری ریاست ہے کہ جس نے اس دفاعی نظام کو استعمال کیا۔

اسرائیلی اور اماراتی اہلکاروں نے کہا کہ فریقین نے جنگ کے آغاز سے وسیع پیمانے پر فوجی اور سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔

ایکسیوس کا تجزیہ ہے کہ "امارات کی سرزمین میں اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی، خلیج فارس کے علاقے میں سیاسی لحاظ سے حساسیت کا باعث بن سکتی ہے، اور دوسری طرف سے یہ نیتن یاہو کے لئے اندرونی سطح پر مشکل کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ اسرائیل خود انتہائی بھاری ایرانی حملوں کا نشانہ بن رہا تھا اور اس نے اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے آئرن ڈوم دوسری ریاست میں منتقل کیا ہے!

امارات نے 2020 میں، ٹرمپ کے پہلے دور میں، وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران، ابراہیم معاہدوں کے تحت، اسرائیل کو تسلیم کیا اور یوں آل نہیان اور صہیونی ریاست کے درمیان 50 سالہ خفیہ تعلقات طشت از بام ہوئے اور نہیانی حکمرانوں نے اعلانیہ طور پر "اسرائیل تسلیم کرو" مہم کا آغاز کیا اور غزہ کی جنگ میں صہیونیوں کی رسد کی ذمہ داری سنبھالی، لیبیا اور سوڈان کو خون کا دریا بنا دیا اور صومالیہ کے باغیوں کو صومالی لینڈ بنا کر دیا اور صہیونیوں سے تسلیم کرایا۔ یمن کی تقسیم پر کام کیا، حتی کہ یمن میں سعودیوں سے بھی لڑ پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

امارات-اسرائیل بھائی بھائی؛ آل نہیان کے لئے آل صہیون کا آئرن ڈوم کا تحفہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha