بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی؛
تزویراتی امور کے ماہر اور KGB کے سابق افسر آندرے مارتیانوف نے کہا:
امریکہ اپنے شیخیوں اور دعوؤں سے اچانک بھیک مانگنے کی کیفیت میں پلٹ آیا اور جنگ بندی کی درخواست پر اصرار کیا، جو ایک وقتی چالبازی نہیں تھی بلکہ یا ٹیکٹیکل پسپائی نہیں بلکہ میدان جنگ میں "سخت حقائق کے ساتھ مڈبھیڑ" کا نتیجہ اور تزویراتی شکست ہے۔
- امریکیوں کو ایران کی اس سطح کی طاقت اور استعداد کی توقع نہیں تھی۔
- امریکہ اگر دوبارہ جنگ میں کودنا چاہے تو اس کو میدان جنگ میں ایک ساختی بے بسی (Structural Desolation) کا سامنا ہوگا اور بالآخر اس کی حتمی اور مکمل شکست پر اختتام پذیر ہوگی۔
ایران کی فیصلہ کن برتری کا سامنا کرنے کے بعد امریکہ کا شیخیوں اور دعوؤں سے جنگ بندی کی بھیک مانگنے کی طرف پلٹ آنا
- ایران پر امریکہ کی جارحیت ایک غلط اور غیر پیشہ ورانہ فوجی اندازوں کا نتیجہ تھا؛ امریکہ "ایک طاقتور کھلاڑی کے ساتھ متناسب جنگ (Symmetrical warfare)" کے حوالے سے سنجیدہ ادراکی غلطی سے دوچار ہؤا؛ اسی بنا پر جنگ سے پلٹ کر جنگ بندی پر اصرار یہ ایک ٹیکٹیکل پسپائی نہیں بلکہ میدان جنگ میں "سخت حقائق کے ساتھ مڈبھیڑ" کا نتیجہ اور تزویراتی شکست ہے۔
- اس حقیقت سے عیاں ہؤا کہ فوجی طاقت، دفاعی گہرائی اور ایران کی جوابی کاروائیاں ابتدائی توقعات سے کہیں بڑھ کر تھی جس نے پینٹاگون کے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیا ہے۔
- یہ جنگ بندی ایک عام سی ٹیکٹیکل پسپائی نہیں تھی بلکہ ایک شکست خوردہ تزویراتی فیصلے کی اصلاح کی کوشش ہے۔
امریکی فوج کی آپریشنل قابلیت ایران کی فوجی طاقت کے مقابلے میں زوال پذیر ہوئی
- میدان میں پیش آنے والے واقعات سے معلوم ہؤا کہ امریکی فوج کی آپریشنل قابلیت کی شکست اور شکست و ریخت کی عینی علامت ہے۔
- امریکی کاروائی ایک ساختی مشکل کا نتیجہ ہے: ایک ایسے میدان میں جہاں گولوں اور بموں کی بارش ہو رہی ہے، دشمن انتہائی تیزرفتاری اور انٹیلی جنس برتری کے ساتھ جواب دیتا ہے، یہ فوج پیچیدہ مشنز کی ڈیزائننگ اور کاروائی میں بےبسی کا شکار نظر آئی۔
- امریکی جنگی سازوسامان اور اسلحے کو وسیع پیمانے پر نقصان، اسپیشل فورسز کے شدید جانی نقصانات، مشنز کے اہداف کی عمد تکمیل سے معلوم ہؤا کہ وہ غلط مفروضوں کی بنیاد پر میدان میں آئے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک کاروائی طاقت کی نمائش کے بجائے "آپریشنل ٹریجڈی" میں تبدیل ہوتی ہے اور امریکی فوجی طاقت کی خودساختہ تصویر، اور سنجیدہ فوج کے ساتھ مڈبھیڑ، کے درمیان دراڑوں کو عیاں کرتی ہے۔
ایران نے عمومی لام بندی کے ذریعے اور آپریشنل-اسٹراٹیجک بالادستی کو مستحکم کرنا
- اس جنگ میں اسٹراٹیجک، مربوط اور حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ایران کی برتری کا باعث ہوئی۔
- ایرانی فوجی اور سول حکام نے اپنی قلتوں اور دشمن کی کمزوریوں کو صحیح طور پر پہچان کر ایک قابل عمل مخلوط حکمت عملی ترتیب دی جس کی وجہ سے میدان کے تمام شعبوں کا کنٹرول ایران کے پاس رہا۔ میزائل صلاحیت، کئی پرتوں پر مشتمل دفاع، ڈھانچوں کے عدم ارتکاز اور سب سے اہم عوام کی لام بندی اور انہیں سیکورٹی کے اگلے مورچوں میں بلانا، اسی حکمت عملی کے اجزاء ہیں۔
- اگلے مورچوں میں عوام کی موجودگی نے ایران کی دفاعی گہرائی میں اور دشمن کے لئے جارحانہ کاروائی کی قیمت میں اضافہ کیا۔
- ایران دشمن کے حملے کو برداشت کرتا ہے، جوابی کاروائی میں تسلسل قائم رکھتا ہے اور دشمن کو رفتہ رفتہ فرسودگی سے دوچار کر دیتا ہے اور توازن کو اپنے حق میں پلٹا دیتا ہے۔ یہ حکمت عملی تدریجی آپریشنل-اسٹراٹیجک برتری کا باعث بنتی ہے۔ یہ حکمت عملی میدان کے ذہین انتظام (Intelligent Command) اور فریق مقابل پر اخراجات ٹھونسنے سے حاصل ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ