14 اپریل 2026 - 00:22
ٹرمپی دھمکی پر ایران کا جواب؛ ہماری بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہؤا تو خطے کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا: اگر خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہؤا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پاسدار ابراہیم ذوالفقاری نے اعلان کیا کہ "بندرگاہوں کی سلامتی یا سب کے لئے ہے یا کسی کے لئے بھی نہیں۔"

بیان کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اپنے ملک کے قانونی حقوق کا دفاع اپنا فطری فریضہ سمجھتی ہیں اور اسی بنیاد پر ہمارے ملک کے پانیوں پر ملکی حکمرانی کا نفاذ، ملت ایران کا فطری حق ہے۔

چنانچہ ہماری بہادر افواج اسلامی جمہوریہ ایران کے پانیوں میں امن و سلامتی کا قیام پوری قوت سے جاری رکھیں گی اور جیسا کہ بارہا اعلان ہؤا ہے، دشمن کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور نہیں ہوگا جبکہ دوسرے جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ضوابط کی پیروی کرکے بدستور آمد و رفت کے مجاز ہونگے۔

نیز، چونکہ ایرانی قوم اور ہمارے ملک کی قومی سلامتی کے خلاف دشمن کی دھمکیاں بدستور جاری ہیں، لہٰذا جنگ کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران قطعی طور پرآبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لئے مستقل ضوابط نافذ کرے گا۔

مجرم امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی پانیوں میں جہازرانی کو محدود کرنے جیسے اقدامات، غیر قانونی ہیں اور سمندری قزاقی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج دو ٹوک اور فیصلہ کن الفاظ میں اعلان کرتی ہیں کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں بندرگاہوں کی سلامتی یا سب کے لئے ہوگی یا کسی کے لئے بھی نہیں ہوگی۔

اگر خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں، ایران کی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہؤا تو خلیج فارس اور اور بحیرہ عمان میں، کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔"

وما النصر الا من عند الله العزیز الحکیم

 ہیڈکوارٹر نے بارودی سرنگوں کی تباہی کے سلسلے میں دشمن کے دعوے پر، کہا: "آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کے داخلے کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔ کسی بھی جہاز کے آبنائے سے گذرنے کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے پاس ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha