بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بوئنگ ای 3 سینٹری (Boeing E-3 Sentry) جاسوسی طیارہ جو "آواکس (AWACS) کے نام سے جانا جاتا ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اہم ترین اسٹراٹیجک ریڈاروں میں سے ایک ہے جو نہ صرف ایک طیارہ یا ریڈار ہے بلکہ یہ میدان جنگ میں "اڑتے ہوئے کنٹرول اینڈ کمانڈ مرکز" کا کردار ادا کرتا ہے۔

یہ سسٹم بوئنگ-707 طیارے پر تعمیر کیا گیا ہے اور سنہ 1970 کے عشرے سے اب نیٹو اور امریکہ کی جنگوں میں استعمال ہوتا آیا ہے، نیز امریکہ نے 1980 کے عشرے میں یہ طیارہ سعودی عرب کو فراہم کیا تھا اور سعودی اسے صدام کے حق میں اور ایران کے خلاف میں ایران کے خلاف جاسوسی کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔

انواع اور قیمتیں
اب تک اس طیارے کی تین قسمیں E-3A، E-3B/C اور E-3G متعارف کرائی گئی ہیں اور نئی قسموں میں ڈیجیپٹل سسٹم نصب کئے گئے ہیں۔

سنہ 1990 کے عشرے میں ہر E-3 قسم کے طیارے 27 کروڑ ڈالر تھی اور فی الحال ـ افراط زر کے تناسب سے ـ اس کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور اس کی نگہداشت پر بھی دسوں ملین ڈالر لاگت آتی ہے چنانچہ اس طیارے کی خریداری تمام ممالک کے لئے ممکن نہیں ہے۔

جو آواکس طیارہ ایران نے تباہ کر دیا
سنہ 2026 کے تخمینوں کے مطابق، حال حاضر میں اس طیارے کی قیمت 53 سے 60 کروڑ ڈالر ہے۔
امریکی ذرائع نے جمعہ 27 مارچ 2026ع کو سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ہوائی اڈے پر ایران کے ڈرون-میزائل حملے میں کم از کم ایک یا دو آواکس (E-3G Sentry) طیارے تباہ ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ