اس امریکی میگزین نے انکشاف کیا کہ کویت میں امریکی اڈے پر تین دن قبل کی ایرانی جوابی کاروائی میں 6 امریکی فوجی 'زخمی' ہوگئے۔ نیز اس حملے میں ایک MQ-9 ڈرون مکمل طور پر تباہ اور ایک شدید نقصان سے دوچار ہؤا۔/ دی اٹلانٹک نے لکھا: "ایران نہ صرف ہارا نہیں ہے بلکہ اپنے دشمنوں سے رعایتیں لے رہا ہے۔"
آج صبح سویرے سپاہ پاسداران نے بندر ہوائی اڈے کے قرب و جوار میں امریکی فضائی جارحیت میں ایک زبردست فضائی کاروائی میں اس اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے اس علاقے پر حملہ ہؤا تھا۔ اس کاروائی کی کچھ ابتدائی تصاویر شائع ہو گئی ہیں۔ / دہشت گرد امریکی فوج نے اس سے قبل پیر کی شب اور منگل کی صبح کو بھی بندر عباس کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا / وزارت خارجہ کا بیان: - جارحانہ دہشت گردی پر مبنی یہ امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے پیراگراف 4 کے ساتھ ساتھ آٹھ اپریل 2026ع کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں؛ ان تمام جارحانہ اقدامات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے؛ بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی امریکی شر انگیزی کو جواب دیئے بغیر نہیں چھوڑیں گی۔
ایرانی مسلح افواج نے ایک نئے مرحلے میں وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں امریکی اور اسرائیلی افواج سے متعلق خفیہ مراکز کو ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ کارروائی "وعدہ صادق 4" کے تحت کی گئی اور مختلف قسم کے بیلسٹک میزائلز اور جدید ڈرونز استعمال کیے گئے۔
بوئنگ ای 3 سینٹری امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اہم ترین اسٹراٹیجک ریڈاروں میں سے ایک ہے، جس کی رینج 9000 کلومیٹر ہے، اس قسم کے ایک یا دو طیاروں کو ایرانی افواج نے وعدہ صادق-4 آپریشن کے دوران تباہ کر دیا۔