30 اگست 2025 - 00:42
چین نے افغانستان میں مغرب کا خلا پر کر دیا

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے مغربی ممالک نے افغانستان کے لئے اپنی ترقیاتی امداد روک دی، لیکن چین نے مختلف راستہ چنا۔ چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (CIDCA) نے نہ صرف امداد کا سلسلہ منقطع نہیں کیا بلکہ اسے افغانستان کے انسانی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی جہتوں پر اثر انداز ہونے کے ایک کثیر جہتی ذریعہ بنا دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سنہ 2018ع‍ میں ـ چین کی ترقیاتی امداد کے اہم بازو کے طور پر ـ سی آئی ڈی سی اے کے قیام کے بعد، افغانستان اس ادارے کی سرگرمیوں کا ایک مستقل محور بن گیا۔ ایسی صورت حال میں جب کابل میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد بہت سے مغربی اداروں نے اپنا تعاون بند کر دیا تھا، سی آئی ڈی سی اے کی سرگرمیوں کے تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین افغانستان کو صرف امداد وصول کرنے والے ملک کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے اپنی مغربی سرحدوں کی حفاظت میں ایک کلیدی کڑی، "بیلٹ اینڈ روڈ" کوریڈورز کی ترقی کے حصے، اور خطے میں مغربی اثر و رسوخ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سے موجودہ خلا کو پر کرنے کے لئے حاصل ہونے والے موقع طور پر بھی دیکھتا ہے۔

چین انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے منصوبے افغانستان میں

1۔ 2023 کے زلزلے کے بعد ہنگامی انسانی امداد

شمال مغربی افغانستان کو ہلا کر رکھ دینے والے زلزلے کے بعد، CIDCA نے چینی ریڈ کراس سوسائٹی کے ساتھ مل کر، 15 اکتوبر 2023 کو پہلی امدادی کھیپ ہرات بھیجی، جس میں ضروری اشیاء جیسے خیمے، کمبل، گرم کپڑے، اور فیملی پیکج شامل تھے۔ امداد کی قیمت کا تخمینہ تقریباً 30 ملین یوآن (~4۔18 ملین امریکی ڈالر) لگایا گیا ہے، اور فنڈ ریزنگ سے لے کر ایئر شپنگ تک، فوری کارروائیاں کی گئیں۔

2۔ موسم سرما 2021 سے پہلے وسیع انسانی امداد

ستمبر 2021 میں، CIDCA، نے لوو ژاؤہوئی (Luo Zhaohui) کی قیادت میں، افغانستان کو ہنگامی انسانی امداد کے لئے 200 ملین یوآن ($31 ملین امریکی ڈالر) بھیجنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا۔ اس امدادی سامان میں سخت سردیوں اور کورونا (COVID-19) کے بحران سے نمٹنے کے لئے غذائی اشیاء، گرم کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء شامل تھیں۔ یہ کھیپ بہت جلد اور غیر مشروط طور پر کابل بھیجی گئی۔

3۔ غیر ہنگامی انسانی ہمدردی کے منصوبے 2019

جولائی 2019 میں، CIDCA نے دونوں ممالک کے درمیان غیر ہنگامی اشیاء ـ جیسے خوراک اور انسانی امداد ـ بھیجنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ جب کہ اس منصوبے کا فوکس عوامی امداد کی فراہمی پر تھا، افغان حکومت نے "انصاف اور دیرینہ دوستی" کے عنوان سے تعاون پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

4۔ وسیع تر ترقیاتی تعاون 2025 کا وژن

اکتوبر 2023 میں، CIDCA اور طالبان کی وزارت خارجہ کے سربراہان نے کابل میں ایک مشترکہ یادگاری تقریب میں صحت، توانائی، زراعت، بنیادی ڈھانچے، استعداد کار میں اضافے کی تعلیم، اور تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

بیجنگ افغانستان میں کیوں خرچ کر رہا ہے؟

الف۔ سیکورٹی وجوہات: افغانستان کا استحکام، سنکیانگ کی سلامتی

چین کو اس بات پر تشویش ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اس کی مغربی سرحدوں پر عدم تحفظ اور سنکیانگ کے علاقے میں انتہا پسند گروپوں کے ابھرنے کا سبب دے گا۔ خوراک، صحت، اور چھوٹے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے شعبوں میں CIDCA کی مدد سماجی استحکام کو برقرار رکھنے اور چین کے پڑوس میں انتہا پسندی کی نئی لہر روکنے کا ایک طریقہ ہے۔

ب۔ اقتصادی وجوہات: بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے جڑنا

افغانستان وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو ملانے کا ایک ممکنہ گیٹ وے ہے۔ بیجنگ جانتا ہے کہ افغانستان کی اقتصادی تعمیر نو میں فعال موجودگی کے بغیر "بیلٹ اینڈ روڈ" ٹرانزٹ کوریڈور تیار کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ CIDCA کے امدادی منصوبے، ـ جیسے اناج کی ترسیل اور انسانی امداد، ـ افغانستان کے انفراسٹرکچر کے مستقبل میں چینی کمپنیوں کی وسیع تر موجودگی کا پیش خیمہ ہیں۔

ج۔ جغرافیائی-سیاسی (Geo-political) وجوہات: مغرب کے خلا کو پر کرنا

امریکہ کے انخلا اور طالبان کے ساتھ مغرب کے تعلقات سرد پڑ جانے کے بعد افغانستان میں اقتدار کا خلا پیدا ہو گیا۔ چین نے CIDCA کے ترقیاتی امدادی ذریعے کا استعمال کرتے ہوئے، مغرب کے چھوڑے گئے خلا کو پُر کر دیا ہے اور وہ واحد طاقتور کھلاڑی کے طور پر اپنی ساکھ کو مضبوط کر رہا ہے، ایسا ملک جس نے مغربی  پابندیوں اور کابل کی سیاسی تنہائی کے باوجود، امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف افغانستان میں چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ اسے علاقائی مساوات میں ایک لاثانی اور لاجواب کھلاڑی بھی بناتی ہے۔

د۔ سافٹ ویئر جہتیں: نرم طاقت کے ساتھ انسانی ہمدردی پر استوارسفارتکاری

چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی اپنی امداد کو "انسانی ہمدردی" کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن یہ امداد دراصل چین کی نرم طاقت کی حکمت عملی کا حصہ [بھی] ہے: مغرب کی مشروط امداد اور سخت پالیسیوں کے مقابلے میں بیجنگ کی ایک مختلف تصویر پیش کرنا۔ یہ امدادی سفارت کاری طویل مدت میں چین کو سماجی سرمایہ اور [ایک طاقت کے طور پر] اس کے کردار کو علاقائی جواز (Regional legitimacy) فراہم کرے گی۔

ایسا لگتا ہے کہ CIDCA کی امداد انسانی ہمدردی کے اقدامات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ بیک وقت علاقائی سلامتی، چین کے میگا پراجیکٹس کے لئے اقتصادی بنیادوں اور افغانستان میں مغربی خلا کو پر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس طرح، افغانستان بیجنگ کے لئے "سیکیورٹی جوکھم" سے ایک "جغ-سیاسی موقع" (Geopolitical Opportunity) میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایک ایسا نقطہ نظر جو چین کی خارجہ پالیسی میں انسانی سفارتکاری اور نرم طاقت کے بیک وقت استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha