بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس انٹرویو میں جنوری 2026 کے تلخ واقعات کا ہمہ جہت اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکورٹی پہلو اس معاملے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ منصوبے اور بعض اقتصادی اور سماجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنا 47 سالہ خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور یقیناً اس بار بھی ماضی کی طرح، وہ غلط اندازے کا شکار ہوگئے اور ایرانی عوام کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر، نہیں پہچانا چنانچہ ان کا منصوبہ ماضی کی طرح ادھورا اور ناکام ہو گیا۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے کل مشرقی آذربائیجان کے عوام سے ملاقات میں جنوری 2026 کے امریکی-صہیونی فتنے کے پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے اہل فکر اور تجزیہ کاروں کے ذریعے اس فتنے کے پہلوؤں کا تجزیہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: "اس فتنے کے بارے میں، میں آپ سے ایک لفظ میں کہتا ہوں: میرے عزیزو! جو کچھ ہؤا، وہ ایک 'بغاوت' تھی جو ناکام ہوگئی۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم کہہ دیں کہ کچھ نوجوان یا بڑے کسی جگہ ناراض ہوگئے، کوئی حرکت کی، کوئی اقدام کیا، کوئی احتجاج کیا یا کوئی فساد کیا؛ نہیں؛ بات اس سے بڑھ کر تھی؛ یہ بغاوت تھی، لیکن یہ بغاوت ایران کے عوام کے قدموں تلے روندی گئی۔ ۔۔۔ دشمن چاہے مانے یا نہ مانے، یہ بغاوت جو اتنی محنت، اتنے خرچے، اتنے بڑے منصوبے کے ساتھ ملک کے اندر تیار کی گئی تھی، ناکام ہوگئی اور شکست کھا کر ختم ہوگئی۔ یہ وہ واقعہ ہے جو پیش آیا۔ یہ معاملہ اہم ہے، کوئی معمولی بات نہیں ہے۔"
خامنہ ای ڈاٹ آئی آر میڈیا نے اسی بنیاد پر، جنوری 2026 کے امریکی-صہیونی فتنے کے پس منظر، پہلوؤں، ناکامی کی کیفیت اور مستقبل کے لئے دشمن کے ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس فورس کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل مجید خادمی سے گفتگو کی ہے جس کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے:
سوال: کیا سیکورٹی ادارے حالیہ فتنے میں بے خبری کا شکار ہوئے؟
جواب: 12 روزہ جنگ کا آغاز اور صہیونی ریاست کی ذلت آمیز شکست نے ـ جو ولی امر مسلمین کی طرف سے کمانڈروں کی تقرری کے حکیمانہ اور فوری فیصلے، قیادت اور وطن عزیز ایران کے محور پر قومی یکجہتی، حکومت کے تمام شعبوں کی ہم آہنگی، ایرانی عوام کی طرف سے اجنبی قوتوں کی تاریخی مخالفت اور دشمن کے مقابلے میں مسلح افواج کی فیصلہ کن اور دندان شکن کارروائی کا نتیجہ تھی، ـ ملک کی داخلی یکجہتی کے بارے میں بیرونی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اندازے بدل دیئے۔ وہ غلط حساب کتاب کی بنا پر سوچ رہے تھے کہ ایران پر حملہ شروع ہوتے ہی مبینہ ناراض عوام سڑکوں پر آجائیں گے اور نظام حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوسرے دن صہیونی وزیراعظم نے واضح طور پر ایران کے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تھی۔
یہ تخمینی غلطی (Error in estimation) اور اس سے پیدا ہونے والی ناکامی نے دشمن کے آپریشنل منصوبے کی ترجیح کو ملک میں فسادات کرانے کی حکمت عملی بدل دیا جس کا مقصد قومی یکجہتی کو کمزور کرنے تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے کچھ دوست سیکورٹی اداروں نے بھی اس منصوبے کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے واضح طور پر ہمیں بتایا کہ "دشمن نے ایران پر فوجی حملے کا اپنا منصوبہ ترک نہیں کیا ہے؛ لیکن فی الحال اس کی سازشیں براہ راست فوجی حملے پر نہیں بلکہ ایران میں داخلی فساد اور عدم استحکام پیدا کرنے پر مرکوز ہیں۔"
اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دشمن کو کئی مہینوں کی منصوبہ بندی اور ماحول سازی کی ضرورت تھی۔ ملک میں موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے اقتصادی جھٹکوں اور دباؤ کے ساتھ ساتھ "نہ جنگ نہ صلح" کی کیفیت قائم اور مستحکم کرنے اور جنگ کے سائے کو معتبر بنانے کی سازش کو اسی تناظر دیکھا جاتا ہے۔
برای همین هم از همان روزهای ابتدایی توقف جنگ، تمامی تلاشها برای پیشگیری و مدیریت گستره و عمق آشوب احتمالی آغاز شد که دعوت و احضار 2735 نفر از عناصر مرتبط با شبکههای ضدّامنیّتی، ارشاد 13 هزار نفر از عناصر آسیبپذیر، آگاهسازی اقشار، اصناف و جمعیتهای در معرض تهدید، کشف 1173 قبضه سلاح جنگی و شکاری غیر مجاز و شناسایی 46 نفر از اعضای شبکه همکار سرویسهای بیگانه، بخشی از تلاشهای صورت گرفته، فقط در سپاه پاسداران انقلاب اسلامی بوده است۔ با این توصیف، قطعاً اگر تلاشهای صورت گرفته توسط نهادهای امنیّتی و انتظامی نبود، آشوب اخیر به مراتب بزرگتر و خشونتبارتر از وضعیت رخ داده بود۔
ساتھ ہی، ایک طرف کثیر الجہتی ادراکی (Cognitive) کارروائیاں اور سائبر اسپیس میں تشدد کی سطح بلند کرنا اور دوسری طرف سماجی نیٹ ورکس میں وسیع پیمانے پر نیٹ ورکنگ، بیرونی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ایجنڈے پر تھی تاکہ مقررہ وقت پر "بڑا دھچکا" لگانا ممکن ہو سکے۔
اسی لئے جنگ رکنے کے ابتدائی دنوں سے ہی ممکنہ فسادات کے دائرہ کار اور گہرائی کی روک تھام اور انتظام کی تمام کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔ ان کوششوں کے ایک حصے کا تعلق صرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے تھا؛ چنانچہ غیرمحفوظ نیٹ ورکس سے منسلک 2735 عناصر کو طلب کیا گیا، 13 ہزار ضعیف النفس عناصر کی رہنمائی، خطرے سے دوچار طبقات، پیشہ ورانہ گروہوں اور آبادیوں کو آگاہی دی گئی، 1173 غیر قانونی جنگی اور شکاری ہتھیاروں کا سراغ لگایا گیا اور غیرملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنے والے نیٹ ورک کے 46 ارکان کی شناخت کی گئی۔ اس وضاحت کے ساتھ، یقیناً اگر سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی کوششیں نہ ہوتیں تو حالیہ فساد پیش آنے والی صورت حال سے کہیں زیادہ بڑا اور پرتشدد ہو سکتا تھا۔
بے خبری کے حوالے سے یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اس موضوع کو مختلف جہتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جیسے معلوماتی بے خبری، آپریشنل بے خبری، فسادات کے امکان پر "یقین" کے حوالے سے بے خبری، ٹائم ٹیبل اور سڑکوں پر آنے والوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بے خبری وغیرہ۔۔۔
اس فساد کے بارے میں بھی تقریباً 3 ماہ قبل، ملک میں بغاوت کے منصوبے کے لئے دشمن کے 7 مرحلاتی پروگرام سے متعلق تزویراتی جائزے اور انتباہ پر مبنی متعدد رپورٹیں فیصلہ سازوں کو معلوماتی سطح پر تیار کر کے بھیجی گئی تھیں۔ ملک میں فسادات کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے سلسلے میں بھی متعدد اقدامات کئے گئے تھے۔
بے خبری کے تصور کا کچھ حصہ دشمن کے بے لگام تشدد کے استعمال کے فیصلے کی وجہ سے بھی ہے۔ اگر فسادیوں نے جائز مطالبات کے لئے سڑکوں پر آنے والے مظاہرین کی صفوں سے ناجائز نہ اٹھایا ہوتا، دشمن بھی فسادیوں کی براہ راست سیاسی اور سیکورٹی معاونت کے لئے میدان میں نہ آتا اور تربیت یافتہ فسادیوں کو بے تحاشا تشدد کے لئے میدان میں نہ آتے اور ہلاکتوں میں اضافے کے امریکی-صہیونی منصوبے پر عمل درآمد نہ کرتے تو شایٹ رونما ہونے والا فساد اس سے کہیں پہلے قابو میں آ جاتا۔
سوال: اس مخلوط کارروائی (نظام کی تبدیلی، وسیع پیمانے پر عدم استحکام، شہری دہشت گردی کی تخلیق، عوامی اعتماد کی تباہی) کے حتمی تزویراتی ہدف کے بارے میں سیکورٹی اداروں کا جائزہ کیا ہے؟
جواب: جنوری میں رونما ہونے والے فسادات کے حتمی ہدف کو سمجھنے کے لئے، پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ دشمن کی قطعی حکمت عملی، کمزور کرنا یا روکنا نہیں بلکہ بلکہ "اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی تبدیلی" ہے، جسے آسان بنانے اور انجام تک پہنچانے کا کام داخلی فسادات اور خارجی فوجی مداخلت پر منحصر سمجھا گیا ہے۔ درحقیقت یہ ایران مخالف حکمت عملی، خطے سے مقاومت کا خاتمہ اور خطے میں صہیونی ریاست کو مرکزی حیثیت دینے کی حکمت عملی کے تسلسل میں متعین ہوتی ہے؛ یوں کہ امریکیوں کا ماننا ہے کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن اور عالمی رائے عامہ میں صہیونی ریاست کی قانونیت اور ساکھ میں نمایاں کمی کے زیر اثر، تمام کوششیں اس ریاست کے دشمنوں اور حتیٰ کہ حریفوں کو ہر طرف سے کمزور کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں اور دوسرے لفظوں میں امریکی چاہتے ہیں کہ سب کو صہیونی ریاست کے مفادات پر قربان کر دے۔
لیکن بارہ روزہ جنگ میں ایران سے اس حکومت کی شکست، عراق کے پارلیمانی انتخابات میں مزاحمتی تحریک کے اتحادیوں کی کامیابی، لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی ناکامی اور یمن میں انصار اللہ کا ہتھیار نہ ڈالنا، خطے میں غاصب ریاست کو طاقتور بنانے میں امریکہ کی ناکامی کی واضح نشانیاں ہیں۔ اس صورت حال کی درست تفہیم کے ساتھ، اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمت کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش میں جنوری کے فسادات کی اہمیت کا بہتر تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ اگر وہ مقاومت اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت تشکیل دینے والے عوامل کی مضبوطی کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو سکا تو عنقریب اسے خطے میں اپنے تزویراتی اتحادی کے اثر و رسوخ اور طاقت کے زوال کا سوگ منانا ہوگا۔
دوسری طرف، جیسا کہ پچھلے سوال کے جواب میں اشارہ کیا گیا، یہ فسادات، ملک پر دوبارہ فوجی حملے اور مذکورہ حکمت عملی کے تحت ایران کی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کا پیش خیمہ اور پس منظر تصور کیا جاتا تھا جو عوام کی ہوشیاری اور قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی اداروں کی کوششوں سے ناکام ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ