بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹکر کارلسن نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں یاد دلایا کہ 70 فیصد سے زیادہ امریکی ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی کے خلاف ہیں۔
انھوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دے کر کہا: امریکہ کے اس جنگ میں داخل نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہیں: پہلی وجہ وہی ہے جو بتائی گئی: اسرائیلی خواہش؛ لیکن بہرحال زیادہ تر امریکی یہ نہیں چاہتے... چنانچہ یہ اس جنگ سے اجتناب کی ایک اچھی وجہ ہے: [مسٹر ٹرمپ امریکی] عوام آپ کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔"
اس امریکی میزبان نے ـ جو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں سے ہیں، ـ مزید کہا کہ امریکی حکمران اس سلسلے میں فوجی کارروائی کے لئے کوئی معقول وجہ پیش نہیں کر سکے ہیں۔
کارلسن نے مزید کہا: ایران کی طاقت اس جنگ سے پرہیز کرنے کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
انھوں نے کہا: یہ جنگ خاص طور پر مشکل ہوگی۔ یہ عراق جنگ کے بعد سب سے بڑا فوجی اجتماع ہے۔ لیکن ایران عراق جیسا ملک نہیں ہے۔ ایران بہت، بہت بڑا اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ ایران کی آبادی تقریباً 92 ملین ہے، اور اس ملک کا رقبہ عراق سے چھ گنا بڑا ہے۔"
کارلسن کے پوڈکاسٹ کا خلاصہ:
• ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کو شدید کمزور کر دے گی۔ ان کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہیں چاہتے۔
• ایران عراق جیسا نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ بڑا، جدید اور طاقتور ہے۔ ایران کی آبادی تقریباً 9 کروڑ 20 لاکھ اور عراق سے تین گنا بڑی اور رقبہ چھ گنا بڑا ہے۔
• میں خبردار کرتا ہوں کہ امریکی فوج کے پاس ضروری ہتھیاروں کی شدید کمی ہے۔ اگر ایران سے جھڑپ ہوئی تو امریکی فوج اگلے 10 سالے کے عرصے تک کسی بھی بڑی جنگ کے قابل نہیں رہے گی۔
• خطے میں موجود دسوں ہزار امریکی فوجی اور شہری خطرے سے دوچار ہوں گے۔
• ایران کی میزائل طاقت کے استعمال سے عالمی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔
• امریکی عوام کے ہاں اسرائیل کی حمایت ختم ہو رہی ہے اور موجودہ امریکی انتظامیہ وہ آخری انتظامیہ ہے جو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتی ہے۔
• امریکہ کے اگلی نسل کے سیاستدان اسرائیل کے لئے امریکہ کو جنگ میں نہیں جانے دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
آپ کا تبصرہ