بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ بقرہ کی آیت 183، روزے سے متعلق اہم ترین آیات میں سے ایک ہے، ایسی آیت جس میں خدائے متعال کسی خاص قوم یا طبقے کا ذکر کئے بغیر، بطور عام ارشاد فرماتا ہے:
"یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ کَما کُتِبَ عَلَى الَّذینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ؛
اے ایمان لانے والو! 'روزہ رکھنا' تم پر لکھ دیا گیا [اور واجب کیا گیا] ہے، جس طرح کہ یہ لکھ دیا گیا تھا ان پر جو تم سے پہلے تھے اس لئے کہ شاید تم پرہیزگار ہو جاؤ۔"
یہ آیت ان آیات کے سلسلے کا آغاز ہے جن ماہ رمضان کے روزوں کے احکام بیان ہوتے ہیں اور اس میں اس عظیم فریضے کا فلسفہ بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں، علامہ طباطبائی کی تفسیر المیزان کی روشنی میں، روزے کے وجوب (یا فرضیت) کی وجوہات اور اس کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
روزہ، تقویٰ کی مشق ہے، نہ کہ محض بھوک سہنا
علامہ طباطبائی اس آیت کی تفسیر میں، پہلے "کُتِبَ عَلَیْکُم" کی طرف توجہ دلاتے ہیں، ایسی تعبیر و عبارت جو تشریعی وجوب کو ظاہر کرتی ہے۔ روزہ، کوئی سادہ سی اخلاقی سفارش نہیں ہے، بلکہ مؤمنوں کے لئے ایک قطعی حکم اور تربیتی منصوبہ ہے۔
ان کے نزدیک، روزے کے فلسفے کی فہم و تفہیم کی کنجی آیت کے آخری جملے میں پوشیدہ ہے: "لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ" المیزان کے نقطہ نظر سے، تقویٰ ایک اندرونی (و باطنی) کیفیت ہے جو انسان کو گناہ اور حدود سے تجاوز کرنے کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ روزہ، فطری خواہشات کی تسکین پر روک لگا کر، ضبط نفس کی قوت کو انسان میں مضبوط کرتا ہے؛ جو شخص اپنی حلال ترین ضروریات کو ایک مخصوص وقت میں ترک کر سکتا ہے، وہ حرام سے بھی بہتر انداز میں پرہیز کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روزہ عزم اور ارادے کی مشق کا میدان ہے، وہ ارادہ جو تقویٰ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
پچھلی امتوں میں روزے کے وجوب کا مطلب: تاریخِ دین میں تربیتی روایت
آیت واضح کرتی ہے کہ روزہ صرف امت محمدیہؐ پر فرض نہیں کیا گیا، بلکہ "کَما کُتِبَ عَلَى الَّذینَ مِن قَبْلِکُمْ" (جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں (اور امتوں) پر بھی فرض کیا گیا تھا)۔ علامہ طباطبائی لکھتے ہیں کہ آیت کا یہ حصہ الٰہی سنتوں (یا روایاتِ الٰہیہ) میں اس عبادت کی گہری جڑوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، روزہ وہ قانون ہے جو پچھلی شریعتوں میں بھی موجود تھا، کیونکہ انسان کی تربیتی ضرورت تمام زمانوں میں یکساں ہے۔
المیزان کے نقطہ نظر سے، اس نکتے کا ذکر تاریخی پس منظر بیان کرنے کے علاوہ، مؤمنوں کے لئے ایک قسم کی تسلی اور روحانی تقویت بھی ہے، یعنی تم اس فریضے کو برداشت کرنے میں اکیلے نہیں ہو، بلکہ "تم ایک دیرینہ الٰہی روایت کے تسلسل میں آگے بڑھ رہے ہو۔"
روزے میں جسم و جان کا ربط
علامہ طباطبائی کے تجزئے میں، روزہ وہ عبادت ہے جس کا تاثیر جسم اور جان دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اگرچہ اصل مقصد روحانی نمو اور تقویٰ ہے، لیکن اس ترقی کا طریقہ کار 'جسمانی ضروریات پر قابو پانے کے راستے سے' گذرتا ہے۔
انسان فطری طور پر مادی خواہشات کا اسیر ہے۔ کھانا، پینا اور دیگر جسمانی لذتیں، اگر بے قابو ہوجائیں، تو روح کو دنیا پرستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ روزہ، اس عمل میں دانستہ وقفہ ڈال کر، انسان کی توجہ جسم سے جان کی طرف مبذول کراتا ہے۔ اس حالت میں، روح کو جسم کی خواہشات کے دائمی تسلط سے وقتی چھٹکارے اور کچھ فاصلہ اختیار کرنے، کا موقع ملتا ہے۔
المیزان کے الفاظ میں، روزہ انسان کے مادی اور روحانی پہلو کے درمیان ایک توازن قائم کرتا ہے اور اجازت نہیں دیتا کہ ایک دوسرے پر غالب آ جائے؛ [دنیاپرستی سے بھی بچانا، رہبانیت اور ترک دنیا سے بھی محفوظ رکھنا]۔
روزے کی مدد سے سماجی ہمدردی کی تقویت
اگرچہ آیت 183 روزے کے سماجی پہلو کی طرف براہ راست اشارہ نہیں کرتی، لیکن علامہ طباطبائی، سورہ بقرہ کی روزے کی آیات کے کلی دائرے میں، اس کے سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ جب تمام مؤمن ایک ہی وقت میں بھوک اور پیاس کا مزہ چکھتے ہیں، تو ایک قسم کی عمومی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
روزہ طبقاتی فاصلے کو جیۓ ہوئے تجربے (Lived experience) کی سطح سے کم کر دیتا ہے، امیر اور غریب دونوں، دن کے کچھ اوقات میں یکساں حالات کے سے گذرتے ہیں۔ یہ مشترکہ تجربہ، سماجی ذمہ داری کے جذبے اور ضرورت مندوں کی دستگیری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے۔ اسی لئے اسلامی تعلیمات میں، روزے کا انفاق و خیرات اور محرومین کی مدد، سے گہرا رشتہ ہے۔
رمضان کے روزے 'عادتوں کی غلامی' سے آزادی کا ذریعہ
تفسیر المیزان میں ایک اور باریک نکتہ، روزے کی آزادی بخش نوعیت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ انسان اپنے بہت سے کاموں کو عادتاً انجام دیتا ہے۔ مخصوص اوقات میں کھانا، اندرونی خواہشات پر فوری ردعمل اور خواہشات کی بلا چون و چرا پیروی، وہ عادات ہیں جو رفتہ رفتہ غیر مرئی زنجیروں میں بدل جاتی ہیں۔
روزہ عارضی طور پر ان زنجیروں کو توڑ دیتا ہے۔ انسان کو اپنی طاقت کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ یہ ادراک کر لیتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات پر قابو پا سکتا ہے اور محض جِبِلَّت کا تابع نہیں ہے۔ یہ تجربہ، انسان کے وقار اور اندرونی قوت کے احساس کو بڑھا دیتا ہے؛ وہ احساس جو روحانی نشوونما کا پیش خیمہ ہے۔
روزہ: شرعی حکم اور انسان کی بالیدگی کا پروگرام
تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی لکھتے ہیں: روزے کا وجوب حکمت سے عاری اور محض ایک تعبدی حکم نہیں ہے، بلکہ انسان کی تربیت کا جامع پروگرام ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ تقویٰ تک پہنچنا ہے؛ وہ تقویٰ جو ارادے کی مضبوطی، جبلتوں پر قابو، جسم اور جان میں توازن پیدا کرنے اور سماجی ذمہ داری کے احساس کی تقویت کے راستے سے، حاصل ہوتا ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت 183 واضح کرتی ہے کہ روزہ، بھوک اور پیاس سے بالاتر، خود پر قابو رکھنے والا منضبط، اور "خدا آگاہ" انسان کی تعمیر گاہ ہے؛ ایسا انسان جو سیکھتا ہے کہ اسے کس طرح نفسانی خواہشات کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور روحانی ترقی کا راستہ دانستہ طور پر کس طرح منتخب کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ