اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روس کے صدارتی معاون اور ملکی بحری کونسل کے سربراہ نیکلائی پاتروشف نے اعلان کیا ہے کہ روس اور چین کے جنگی جہاز ایران کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت کے لیے آبنائے ہرمز کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ مشقیں "میرین سیکیورٹی بیلٹ 2026 کے عنوان سے منعقد کی جا رہی ہیں۔
روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاتروشف نے کہا کہ یہ مشقیں سمندروں میں کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کے تصور کے تحت ہو رہی ہیں اور روس اپنے ہم خیال اتحادیوں کے ساتھ اس ہدف کے لیے سرگرم عمل ہے۔
میرین سیکیورٹی بیلٹ مشقوں کا آغاز 2018 میں شمالی بحر ہند میں ہوا تھا، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں یہ مشقیں باقاعدہ سلسلہ بن گئیں اور ان کا مقصد شریک ممالک کی بحری صلاحیتوں کو عملی اور حربی مشقوں کے ذریعے مضبوط بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان مشقوں کے ذریعے ایران خطے میں ایک اہم بحری قوت کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے، جبکہ روس اور چین بحر ہند میں اپنی موجودگی کو نمایاں کر کے مغربی بحری غلبے کو چیلنج کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔
پاتروشف نے بحری سلامتی کے حوالے سے کہا کہ حالیہ برسوں میں سمندر دوبارہ جغرافیائی سیاسی کشمکش کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول، مغربی ممالک روس کی سمندری تجارت کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اگر ماسکو نے مؤثر جواب نہ دیا تو بعض یورپی طاقتیں روس کی سمندری رسائی محدود کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس اپنی بحری قوت کو 2050 تک جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں جدید جنگی جہازوں اور بغیر عملے کے بحری نظاموں کی شمولیت شامل ہوگی، تاکہ دور دراز سمندری علاقوں میں بھی مؤثر موجودگی برقرار رکھی جا سکے۔
آپ کا تبصرہ