18 فروری 2026 - 10:49
مآخذ: ابنا
امریکا کو رہبرِ انقلاب کا انتباہ عرب میڈیا کی شہ سرخی بن گیا

تہران میںمقام معظم رہبر انقلاب اسلامی کے حالیہ خطاب نے عرب دنیا کے ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی بازگشت پیدا کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، تہران میںمقام معظم رہبر انقلاب اسلامی کے حالیہ خطاب نے عرب دنیا کے ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی بازگشت پیدا کی ہے۔ امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں دیے گئے ان کے بیانات لبنان، قطر، عراق، سعودی عرب، فلسطین اور یمن کے میڈیا میں نمایاں سرخیوں کے طور پر نشر ہوئے۔

آذربائیجانِ شرقی کے عوام سے ملاقات کے دوران تہران میں خطاب کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب نے امریکہ کے اس دعوے پر تنقید کی کہ اس کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسی فوج کو بھی ایسا دھچکا لگ سکتا ہے جس کے بعد وہ سنبھل نہ سکے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی خطے میں تعیناتی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ طیارہ بردار بحری جہاز خطرناک ہوتا ہے، مگر اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔

لبنان میں متعدد ذرائع ابلاغ نے اس خطاب کو نمایاں کوریج دی۔ لبنانی میڈیا نے خاص طور پر اس جملے کو سرخی بنایا جس میں کہا گیا کہ اگر مذاکرات ہونے ہیں تو ان کا نتیجہ پہلے سے طے کرنا غلط اور احمقانہ اقدام ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارےالجزائر نے بھی متعدد بریکنگ نیوز کے ذریعے خطاب کے اہم نکات نشر کیے اور اس بات کو اجاگر کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکہ ایران کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔

عراق میںالسوماریا اور سرکاری خبر رساں ایجنسی عراق سمیت مختلف اداروں نے رپورٹ کیا کہ امریکہ ماضی میں بھی ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عراقی میڈیا نے اس انتباہ کو بھی نمایاں کیا کہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

سعودی عرب کے چینلز العربیہ اور ہدایت  نے بھی خطاب کے اہم حصوں کو نشر کیا، جبکہ العربیہ نیوز چینل نے اسے اس زاویے سے پیش کیا کہ ایران کے پاس امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار القدس العربیہ اور یمن کے چینل  نے بھی خطاب کو تفصیل سے شائع کیا اور اسے امریکہ کے خلاف واضح پیغام قرار دیا۔

مجموعی طور پر عرب میڈیا نے تین نکات کو خاص اہمیت دی: ایران کی دفاعی صلاحیت اور بازدارندگی، امریکہ کی گزشتہ دہائیوں میں ایران کے خلاف ناکامی، اور یہ مؤقف کہ مذاکرات کا نتیجہ پہلے سے مسلط کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ بیروت سے دوحہ، بغداد، ریاض، لندن اور صنعاء تک اس وسیع کوریج نے اس خطاب کو عرب سیاسی و میڈیا منظرنامے کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha