4 جنوری 2026 - 01:39
وینزوویلا میں حالیہ اقدام امریکی زوال کی رفتار تیز کرتا ہے، ڈاکٹر فواد ایزدی

امریکی امور کے ماہر نے واضح کیا: حالیہ حرکتیں امریکہ کی طاقت کی علامت نہیں، بلکہ ایک زوال پذیر طاقت کی بے چینی کا اظہار ہے۔ امریکہ اب انیسویں صدی میں نہیں رہتا، لیکن اس کے کچھ سیاستدان ننگی طاقت کے ذریعے اس دور میں واپس لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف امریکہ کی پوزیشن کو مضبوط نہیں کرتا، بلکہ اس کے زوال کے عمل کو تیز کرتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی امور کے ماہر اور تہران یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر فواد ایزدی نے (ہفتہ، 3 جنوری کو) ایرانی ٹی وی کے چینل 4 کے پروگرام "شیوہ" میں کہا کہ وینزویلا کی حکومت کو گرانے کی بات نیا موضوع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اسی پہلے دن سے جب ہوگو چاوز پہلی بار وینزویلا کے انتخابات میں کامیاب ہوئے، امریکی سیاسی اور اقتصادی حلقوں نے اس واقعے کو ایک اسٹراٹیجک شکست سمجھا۔ یہ صورت حال ایران کے اسلامی انقلاب کے تجربے سے بہت ملتی جلتی ہے جس نے خطے میں امریکی مفادات کو بڑا دھچکا پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا: چاوز کی انتخابی کامیابی سے واشنگٹن نے محسوس کیا کہ لاطینی امریکہ میں اس کے اثر و رسوخ کے سب سے اہم علاقوں میں سے ایک اس کے کنٹرول سے نکل رہا ہے۔ اس فکر کی وجوہات بھی زیادہ پیچیدہ نہیں تھیں؛ ایران تیل اور گیس کے مجموعی ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور وینزویلا بھی تیل کے ذخائر کا دنیا کا سب سے بڑا مالک ہے؛ یہاں تک کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے بھی زیادہ۔ اسی وجہ سے، وینزویلا امریکہ کے لیے انتہائی اہم اور تزویراتی ملک سمجھا جاتا تھا۔

مضمون کا خلاصہ درج ذیل ہے:

ایزدی کے مطابق، وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنا اور وہاں فوجی مداخلت طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک زوال پذیر سلطنت کی بے چین تڑپ ہے۔ امریکہ کے حکمران اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ اب انیسویں صدی نہیں رہی، جب طاقت کے بل بوتے پر دنیا پر قبضہ کیا جاتا تھا۔ زور زبردستی کے ذریعے ماضی کو واپس لانے کی یہ کوشش نہ صرف ناکام ہے بلکہ امریکہ کے زوال کی رفتار کو اور تیز کر رہی ہے۔

اس کا آغاز 1998 میں ہوگو چاوز کی انتخابی فتح سے ہوا، جو ایران کی اسلامی انقلاب کی طرح امریکی مفادات کے لیے ایک زبردست دھچکا تھا۔ وینزویلا کے تیل کے عظیم نے اسے امریکہ کی نظر میں انتہائی اہم بنا دیا تھا۔ چنانچہ، امریکہ نے چاوز اور پھر مادورو کی حکومت کو گرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا: اقتصادی پابندیاں، پراپیگنڈا، اور بار بار ناکام بغاوتیں۔

حالیہ فوجی اقدام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور وینزویلا کے عوام کی مرضی کے بالکل برعکس ہے۔ یہ امریکہ کی حقیقی استعماری فطرت کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف وینزویلا کے تیل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہی "بلیک گولڈ" پر کنٹرول کا جنون ایران کے شاہ کے زمانے میں، آج سوریہ میں، اور عراق کی آمدنی کے امریکی بینکوں میں قید ہونے میں نظر آتا ہے۔

لیکن یہ طاقت کا اظہار نہیں، ضعف کی علامت ہے۔ امریکہ کا داخلی سیاسی نظام (کانگریس کے اختیارات) اور عوامی مزاحمت طویل یا مہنگے جنگ کو روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ "نرم اتار" (Soft Landing) چاہتا ہے، تاکہ کم سے کم قیمت پر اپنا مقصد حاصل کر سکے۔

نتیجتاً، یہ اقدام امریکہ کے "شیطان بزرگ" ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ لاطینی امریکہ کی قوموں کے لیے ایک بیداری کی گھنٹی ہے، جو اب اپنی خودمختاری کے تحفظ اور باہمی اتحاد کی اہمیت کو بہتر سمجھ رہی ہیں۔ یہ ایران، چین اور روس جیسے ممالک کے لیے ایک سٹریٹجک موقع بھی پیدا کرتا ہے کہ وہ اس خطے میں اپنی سفارتی اور اقتصادی شراکت داریوں کو مضبوط کریں۔

سب سے بڑا سبق یہ ہے: امریکہ صرف اسی پر حملہ کرتا ہے جسے وہ کمزور سمجھے۔ اگر کوئی قوم اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس حد تک مضبوط کر لے کہ امریکہ کو بھاری انسانی اور سیاسی قیمت چکانے کا خدشہ ہو، تو وہ اس پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرے گا۔ وینزویلا کا المیہ ایک زوال پذیر طاقت کی بے چینی، استعمار کی بھوک، اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے مضبوط دفاع کی انتہائی اہمیت کا سبق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha