30 اگست 2025 - 22:00
حزب اللہ کو غیر مسلح ہونے کے بعد غدار دشمن کے مقابلے میں لبنان کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں ہے

سابق لبنانی وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا: کیا لبنانی سرکاری عہدیدار مقاومتِ حزب الله کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں؟ کیا وہ امریکہ کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں اور لبنان کے مفادات اور ترک اسلحہ سے جنم لینے والے خطرات کو مدنظر رکھ سکتے ہیں؟ لبنان کی زمین پر کون رہے گا جو اسرائیل کے جارحیت کا مقابلہ کر سکے؟ کیا لبنانی فوج اکیلے تجاوز کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے اور حکومت کے ہاتھ میں اسلحہ کی انحصار کا مسئلہ اس ملک کے سیاسی منظر نامے کا سب سے حساس اور متنازعہ موضوع بن گیا ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل "شیخ نعیم قاسم"،  نے اپنے تازہ موقف میں اعلان کیا کہ ملک کے تمام مسائل اسرائیل کی دشمنی اور امریکہ کی کی طرف سے اس کی حمایت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، اور لبنان کے مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ پہلے قومی خودمختاری کی طرف واپس لوٹا جائے، اسرائیل کے حملے بند ہوں، قابض صہیونی فوجیں لبنانی علاقوں سے نکل جائیں، تعمیر نو کا آغاز ہو اور قیدی رہا کئے جائیں۔

سیکرٹری جنرل حزب اللہ نے کہا: اگر مزاحمت نہ ہوتی تو اسرائیل بیروت تک پہنچ چکا ہوتا اور لبنان کے 600 کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر لیتا، جیسا کہ شام میں ہؤا۔

انھوں نے مزید کہا: مقاومت اسرائیلی مقاصد کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے اور یہ ریاست لبنان میں نہیں ٹھہر سکتی یا لبنان کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ منصوبے کو آگے نہیں بڑھا سکتی۔

اسی سلسلے میں لبنان کے سابق وزیر خارجہ "عدنان منصور" نے حزب اللہ کے ترک اسلحہ کے ملک کی علاقائی خودمختاری پر اثرات اور نتائج کی وضاحت کی اور اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیئے۔

سوال: آپ حزب اللہ کے ترک اسلحہ کے بارے میں بار بار ہونے والی درخواستوں اور اس قسم کے دعوؤں ـ جیسے: یہ اسلحہ لبنان کے لئے خطرہ ہے، ـ کے اعادے کی کیا وجوہات ہیں؟

جواب: اس دعوے کے بارے میں کہ حزب اللہ کا اسلحہ لبنانی حکومت کے لئے خطرہ ہے اور حکومت کو یہ اسلحہ اپنے پاس محدود کرنا چاہئے، میں یہ کہوں گا کہ قرارداد 1701 اور خاص طور پر "طائف معاہدہ" واضح کرتا ہے کہ لبنان اور اس کے عوام کو جارحیت کا مقابلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس طرح لبنان میں مقاومت کے وجود کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن آج، صہیونی ریاست کی لبنان پر جارحیت کے بعد، لبنان کے اندر سے ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ گویا حزب اللہ کو اپنا اسلحہ جمع کرانا چاہئے؛ کیونکہ اسلحہ جمع نہ کروانا اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری رکھنے اور اس کے باشندوں کی واپسی روکنے کے لئے بہانہ فراہم کرتا ہے۔ درحقیقت یہ دعوے محض گھسے پٹے بہانے ہیں۔

سوال: صہیونی ریاست کے مسلسل تجاوزات کے سائے میں حزب اللہ کے ترک اسلحہ سے لبنان ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟

جواب: یہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے، ترک اسلحہ کے بعد کون اور کیسے لبنان کی زمین کو اسرائیل کی کسی بھی جارحیت سے محفوظ رکھے گا؟ خاص طور پر جبکہ ہم جانتے ہیں کہ 2006 کے بعد، سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ ریاست ہمیشہ اس کی خلاف ورزی کرتی رہی ہے۔

لبنان نے 2006 سے 2023 تک، جب غزہ کی حمایت میں جنگ شروع ہوئی، مقبوضہ علاقوں کی طرف ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ اس کے برعکس، اسرائیل نے زمین، سمندر اور ہوا سے 40 ہزار سے زیادہ بار قرارداد 1701 کی خلاف ورزی کی۔ اس لئے اسرائیلی دشمن ناقابل اعتماد ہے۔ ہرگز اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ اس کی ـ غصب و جارحیت اور اراضی پر قبضہ کرنے اور زمینوں کو نگلنے کی ـ بھوک مٹنے والی نہیں ہے، نہ صرف لبنان میں، بلکہ شام اور دیگر مقامات پر بھی آپ اس بھوک کو دیکھ سکتے ہیں۔

اسی لئے مقاومت اور حزب اللہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر حزب اللہ اپنا اسلحہ جمع کرا دے تو کون لبنان کو یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ اسرائیل ملک کی زمین پر مزید حملہ نہیں کرے گا اور اس کے علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گا؟

کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسی ضمانت دینے کے لیے موجود نہیں ہے، خاص طور پر کیونکہ امریکہ 27 نومبر 2024 میں منعقدہ جنگ بندی کے معاہدے کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کا سربراہ ہے، اور اس نام نہاد نگرانی کے سائے میں اسرائیل ہر روز معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اسرائیلی ڈرون لبنان کے علاقوں اور گاؤں پر بمباری کر رہے ہیں اور رہائشیوں کو ان کی زمینوں پر واپس جانے اور یہاں تک کہ اپنے گھروں کی تعمیر نو سے روک رہے ہیں۔

چنانچہ کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسی ضمانت دینے کے لئے موجود نہیں ہے، خاص طور پر اس لئے بھی کہ امریکہ 27 نومبر 2024 میں منعقدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کا سربراہ ہے، اور اس نام نہاد نگرانی کے سائے میں اسرائیل روزانہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اسرائیلی ڈرون لبنان کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں اور رہائشیوں کو ان کی زمینوں پر واپس جانے اور یہاں تک کہ اپنے گھروں کی تعمیر نو کرنے سے روک رہے ہیں۔

لہٰذا، لبنان نے جنگ بندی کی پابندی کی، لیکن اسرائیل کبھی بھی پابند نہیں رہا، اب اگر مزاحمت اپنا اسلحہ جمع کرا دے تو کیا ہوگا؟ اسلحہ جمع کروانا اسرائیل کو لبنان کی زمین پر آزادانہ گشت کرنے، حملے کرنے اور زمینوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دینے کے مترادف اور ہم معنی ہوگا، جیسا کہ وہ پہلے ہی کچھ علاقوں اور بستیوں پر قابض ہے اور اب اس کا خیال ہے کہ ایسی بستیاں موجود ہیں جن میں لبنانیوں کو کسی بھی صورت میں داخل نہیں ہونا چاہئے، اس کا مطلب ہے کہ ان لبنانی علاقوں کو  غیر فوجی اور غیر آباد ہونا چاہئے۔

سوال: حزب اللہ کے خلع سلاح کے معاملے پر لبنانی عوام کا موقف کیا ہے؟

جواب: لبنان کی اکثریتی آبادی، اگرچہ مختلف نقطہ نظر رکھتی ہے، لیکن انہیں مجموعی طور یقین ہے کہ اگر حزب اللہ اپنا اسلحہ جمع کرا دے تو اسرائیل جارحیت جاری رکھے گا۔ نہ مغرب، نہ امریکہ، نہ یورپ اور نہ ہی عرب ممالک کی طرف سے کوئی ضمانت موجود نہیں ہے کہ اگر حزب اللہ اسلحہ حکومت کے سپرد کرے تو اسرائیل جارحیت کا آغاز نہیں کرے گا۔

امریکی رکن پارلیمان "لنڈسی گراہم" نے ـ جو لبنان کے دورے پر تھا اور لبنانی عہدیداروں سے ملاقات کبھی کر چکا ہے ـ نے اسی بات کا اعتراف کیا اور کہا: "مجھ سے مت پوچھیں کہ حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل کیا کرے گا"۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ جب مقاومت نہتی ہو جائے گی اور اسلحہ ڈال دے گی، تو کوئی بھی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ آیا اسرائیل خاموش ہو جائے گا یا لبنان کی زمین سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

گراہم کا مقصد یہ کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس لبنان کے لئے کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹے گا۔ ایسی صورت میں، لبنان میں مزاحمت کو کیسے غیر مسلح کیا جا سکتا ہے، جس کا وجود ہی لبنانی سرزمین پر اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لئے ہے!

سوال: آپ صہیونی ریاست کے اس دعوے کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ اگر حزب اللہ غیر مسلح ہو جائے تو وہ اس اقدام کے جواب میں اقدام کرکے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جائے گا؟

جواب: اسرائیلی دشمن دعویٰ کرتا ہے کہ اگر مقاومت اپنا اسلحہ جمع کرا دے تو وہ پیچھے ہٹ جائے گا اور لبنان کی زمین چھوڑ دے گا؛ لیکن یہ دشمن منافق ہے، دشمن غدار ہے، دشمن ٹال مٹول کرتا ہے۔ دشمن صرف ترک اسلحہ پر اکتفا نہیں کرے گا، بلکہ وہ آج بھی ترک اسلحہ کا مطالبہ اس لئے کر رہا ہے کہ لبنان کو بے بس اور مقلوج کر دے اور اس کو اپنا دفاع کرنے کی حقیقی صلاحیت سے محروم کر دے۔

مثال کے طور پر، ہم شام میں دیکھتے ہیں کہ 1973ء میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد سے، شام نے اسرائیل کے خلاف ایک گولی بھی نہیں چلائی، لیکن جب شام کے سابق صدر "بشار الاسد" کی حکومت گر گئی، تو ہم نے دیکھا کہ  اسرائیل نے کس طرح اس ملک پر وسیع پیمانے پر جارحیت کا آغاز کیا۔ اسرائیل نے شام کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا جو 70 سالوں میں جمع کی گئی تھیں۔ اسرائیل آج بھی روزانہ شام کی زمین پر بمباری کر رہا ہے۔ لہٰذا، اس دشمن کے سامنے خاموش نہیں رہا جا سکتا اور ہرگز اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک غدار دشمن ہے جو عرب زمینوں کو، ـ خواہ لبنان، شام یا کہیں بھی ـ ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ان پر قبضہ کرنے کے درپے ہے۔

سوال: کیا مقاومت کے ترک اسلحہ کا منصوبہ، علاقے کے مستقبل کے صہیونی منظر نامے کو مکمل نہیں کر رہا ہے؟

جواب: اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں اعتراف کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کا تصور کرتا ہے جو بائبل کے مطابق ہو، جس میں آٹھ ممالک شامل ہوں، بشمول عراق، شام، لبنان، اردن اور مصر، سعودی عرب اور کویت کے کچھ حصے!!

اب اسی معاملے کے سائے میں ـ جو لبنان کے میدان پر چھایا ہؤا ہے، ـ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا لبنانی سرکاری عہدیدار مقاومتِ حزب الله کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں؟ کیا وہ امریکہ کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں اور لبنان کے مفادات اور ترک اسلحہ سے جنم لینے والے خطرات کو مدنظر رکھ سکتے ہیں؟ لبنان کی زمین پر کون رہے گا جو اسرائیل کے جارحیت کا مقابلہ کر سکے؟ کیا لبنانی فوج اکیلے تجاوز کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha