27 جنوری 2026 - 02:19
نام 'محمد' کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی نگاہ میں

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ایک حدیث میں ایسے افراد کے ساتھ طرز سلوک کے سلسلے میں کچھ نکات بیان فرمائے ہیں جن پر "محمد" کا مبارک نام رکھا گیا ہے؛ ایسے نکات جو اس نام کی عظمت کو عیاں کرتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز  ایجنسی ـ ابنا|| نام نہ صرف افراد کی شناخت کی نشانی سمجھا جاتا ہے، بلکہ روحی، سلوکی اور شخصیتی اثرات کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔

اسی بنا پر مبارک اور بلند معانی پر مشتمل ـ محمد جیسے ـ اسماء تربیت اور شناخت و تشخص کا نمونہ بن سکتے ہیں۔

نام 'محمد' کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی نگاہ میں

جب ایک بچے پر پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا نام رکھا جاتا ہے، تو یہ نام روحانیت، ثقافت اور قدسی خصوصیات کا حامل ہے جو اس کی شخصیت کو فضیلت، ادب اور وقار و کرامت کو تشکیل دیتی ہیں؛ اور معاشرے کو مامور کرتی ہیں کہ اس نام اور اس نام کے حامل کی تکریم اور تعظیم کریں۔

اللہ کے رسول خاتم النبیین محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ایک حدیث میں مسلمانوں ان بچوں کے اکرام کا حکم دیا ہے جن کا نام انہوں نے "محمد" رکھا ہے۔ فرماتے ہیں:

"إِذَا سَمَّیْتُمُ الْوَلَدَ مُحَمَّدًا فَأَكرِمُوهُ، وَأَوْسِعُوا لَهُ فِی الْمَجْلِسِ، وَلا تُقَبِّحُوا لَهُ وَجْهاً؛

جب تم اپنے بچے پر "محمد" نام رکھتے ہو، تو اس کا اکرام و احترام کرو؛ اس کے لئے [بیٹھنے کی] جگہ کھول دو اور اس کے لئے تیورنہ چڑھاؤ [اور غیر شائستہ انداز سے پیش نہ آؤ]۔"

نام "محمد" کی شرافت اور تقدس اس قدر زیادہ ہے کہ وہ [شرف و تقدس] صرف اس نام کے حامل فرد کے لئے مختص ہے، یہی نہیں بلکہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مروی حدیث میں تصریح ہوئی ہے کہ "اگر تم نے کسی بچے پر "محمد" نام رکھا تو اس کے ساتھ احترام سے پیش آؤ، مجالس میں اس کے لئے جگہ کھول دو اور اس کے ساتھ خوشروئی سے پیش آؤ۔

اس فرمان رسالت کے مطابق، آس پاس کے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس نام کے افراد کے ـ اس نام کی بنا پر ـ ادب، تعظیم اور نرمی سے پیش آئیں، کیونکہ یہ نام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یاد دلاتا ہے، چنانچہ اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے اور اس سے بے اعتنائی نہیں ہونی چاہئے۔

اسلامی تعلیمات کی رو سے، "اسم" (نام) اور "مسمّی" (نام پانے والے) کے درمیان ایک بامعنی اور اثر انگیز تعلق ہے۔

نام 'محمد' کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی نگاہ میں

نام نہ صرف افراد کی شناخت کے لئے ایک لفظی اور زبانی علامت ہے بلکہ یہ روحانی، طرز عمل اور شخصیت کے اثرات کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس وجہ سے بابرکت اور بامعنی ناموں کا انتخاب کرنا - خاص کر محمد جیسے نام - فرد کے لیے تعلیم اور شناخت کا نمونہ ہو سکتا ہے۔

جب کسی بچے کا نام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا جاتا ہے تو یہ نام ایک روحانی، ثقافتی اور مقدس بوجھ اٹھاتا ہے جو اس کی شخصیت کو نیکی، شائستگی اور وقار کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ اور معاشرہ بھی اس نام اور اس کے علمبردار کا احترام کرنے کا پابند ہے۔

چنانچہ مذکورہ بالا حدیث میں، اللہ کے نبی، محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ "محمد" نامی بچوں کی تعظیم کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہران کریمی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha