بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلام محض چند رسومات، عبادات اور انفرادی اخلاقیات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ حیاتِ انسانی کے تمام انفرادی و اجتماعی گوشوں کے لیے ایک مکمل، ہمہ گیر اور ابدی "ضابطۂ حیات" ہے۔ خالقِ کائنات نے انسان کو تخلیق کر کے بے مہار نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے نبوت اور امامت کا ایک نورانی سلسلہ قائم کیا تاکہ زمین پر "قسط و عدل" کا قیام عمل میں آ سکے اور انسانیت "طاغوت" کی بندگی سے نکل کر "اللہ" کی بندگی کے سایۂ عاطفت میں پناہ لے سکے۔
عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ، بالخصوص مکتبِ تشیع کو جس سب سے بڑے فکری چیلنج کا سامنا ہے، وہ "دین اور سیاست کی جدائی" (Secularism) کا فتنہ ہے۔ استعماری طاقتوں نے صدیوں کی محنت سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولا ہے کہ "علماء کا کام صرف مصلے تک محدود ہے اور سیاست حکمرانوں کا کھیل ہے۔" اس فکری انحراف نے امت کو صدیوں تک جابر حکمرانوں اور سامراجی طاقتوں کا غلام بنائے رکھا۔
زیرِ نظر کتاب "نظامِ ولایتِ فقیہ"درحقیقت اسی تاریخی غلط فہمی کے ازالے اور اسلام کے سیاسی نظام کی بازیافت کی ایک علمی کوشش ہے۔ یہ کتاب محض جذباتی نعروں پر مبنی نہیں، بلکہ یہ "فقہِ استدلالی"، "کلامِ اسلامی" اور "سیاسی فلسفے" کے ٹھوس دلائل پر استوار ایک تحقیقی دستاویز ہے۔
امید کرتا ہوں کہ یہ کاوش اہلِ علم اور حقیقت کے متلاشی نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ یہ کتاب ان شکوک و شبہات کے تاریک بادلوں کو چھانٹنے میں مدد دے گی جو لبرل ازم اور سیکولر ازم کی یلغار نے پیدا کیے ہیں۔
تحریر: سید لیاقت علی کاظمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ