بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل پاسدار محسن رضائی نے نے پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کے اعلی وفود کے دورہ تہران اور تہران میں علاقائی سلامتی پر غور کرنے کے لئے منعقدہ چار ملکی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
پہلی نشست کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں اعلان کیا گیا کہ خطے کے انتظامات کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ ان شاء اللہ اجلاسوں کا یہ اجلاس جاری رہے گا اور ممکنہ طور پر ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ بھی دوبارہ ایران آئیں گے۔ درحقیقت، تہران کا اجلاس ان شاء اللہ خود خطے میں نئے انتظامات پر منتج ہو جائے گا۔
ہم بھی یہی چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں کو خطے سے نکلنا چاہئے اور خود خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی برقرار رکھنی چاہئے۔
میں نے اس بات کی وضاحت کی کہ اتحاد سلامتی کے لئے کیوں اہم ہے اور تقسیم کیوں عدم سلامتی کا باعث بنتی ہے؟ ہم نے سوویت یونین، امریکہ، برطانیہ، روس اور دیگر ممالک کے دور پر کا جائزہ بھی لیا جو خطے کے باہر سے آئے اور یہاں اپنا ڈیرہ جمایا اور اپنے مفادات، یا طاقتوں کے درمیان تصفیوں کی خاطر، خطے کے ممالک کے مفادات کو، پامال کیا۔
یہ گفتگو تین سے چار گھنٹے تک جاری رہی، اور میرے خیال میں بہت اچھی بحثیں ہوئیں اور خطے کی سلامتی کے مستقبل کے لئے اچھی بنیاد رکھی گئی۔
درحقیقت، مزاحمت کا مطلب یہی ہے اور اسے خطے کے ایک نئی ترتیب کی تشکیل قرار دیا جا سکتا ہے؛ ایسی ترتیب جو اندر سے اور اس خطے سے باہر کے ممالک کی مداخلت کے بغیر تشکیل پائے اور اس کے اپنے قواعد و ضوابط ہوں۔
میں نے انہیں وضاحت دی کہ ہم نے امریکہ کو کیسے شکست دی اور ان کے اہداف اور منصوبے کیا تھے۔ ان کے پاس خود بھی معلومات تھیں، لیکن جو تفصیلات میں نے بیان کیں ان سے وہ زیادہ مطمئن ہوئے۔
درحقیقت، یہ ثابت ہؤا کہ جب ایران جیسا ملک خطے میں نیٹو کی پانچ ہزار پروازوں، تمام امریکی فوج اور اسرائیل کی پوری طاقت کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے، تو اگر ہم چار ممالک مل کر میدان میں موجود ہوں تو ہماری طاقت بہت زیادہ ہو جائے گی اور ہم خطے میں پائیدار سلامتی قائم کر سکتے ہیں۔
میرے خیال میں یہ واضح ہو گیا کہ ایران کا خطے کے مستقبل میں اچھا مقام ہے اور ایران کے بغیر سلامتی قائم نہیں ہو گی۔ ایران کو ہر اس انتظام میں ضرور موجود ہونا چاہئے جو مستقبل میں ترتیب دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ